بدنتائج اور فتنے پیداہوتے ہیں۔اسی طرح انسان روحانی جوڑے سے الگ ہوکر مجذوم اور مخذول ہوجاتاہے۔ دُنیاوی جوڑے سے زیادہ رنج و مصائب کانشانہ بنتا ہے۔ جیساکہ عورت اور مرد کے جوڑے سے ایک قسم کی بقا کے لئے حظ ہے۔ اسی طرح عبودیت اور بوبیت کے جوڑے میں ایک ابدی بقاء کے لئے حظ موجود ہے۔ صوفی کہتے ہیں جس کو یہ حظ نصیب ہوجاوے وہ دُنیا ومافیہا کے تمام حظوظ سے بڑھ کر ترجیح رکھتا ہے۔ اگر ساری عمرہ میں ایک بار بھی اس کو معلوم ہوجائے، تو اس میں ہی فنا ہوجاوے ، لیکن مشکل تو یہ ہے کہ دُنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اس راز کو نہیں سمجھا اور اُن کی تمازیں صرف ٹکریں ہیں اور اوپر ے دل کے ساتھ ایک قسم کی قبض اور تنگی سے صرف نشست و برخساست کے طور پر ہوتی ہیں۔ مجھے اور بھی افسوس ہوتا ہے، جب مَیں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اس لئے نمازیں پڑھتے ہیں کہ وہ دُنیا میں معتبر اور قابلِ عزت سمجھے جاویں اور پھر اس نماز سے یہ بات ان کو حاصل ہوجاتی ہے، یعنی وہ نمازی اور پرہیزگار کہلاتے ہیں۔ پھر اُن کو کیوں یہ کھاجانے والا غم نہیں لگتا کہ جب جھوٹ موٹ اور بیدل کی نماز کو یہ مرتبہ حاصل ہوسکتا ہے تو کیوں ایک سچے عابد بننے سے ان کو عزت نہ ملے گی اور کیسی عزت ملے گی۔
نماز میں لذت نہ آنے کی وجہ اور اُس کا علاج غرض میں دیکھتاہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سُست اس
لئے ہوتے ہیں کہ اُن کو اس لذت اور سُرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے۔ پھر شہروں اور گائوں میں تو اور بھی سُستی اور غفلت ہوتی ہے۔ سوپچاسواں حصہ بھی تو پوری مُستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سرنہیں جھکاتا۔پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ اُن کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس مزہ کو چکھا اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذّن اذان دے دیتا ہے۔ پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے، گویا اُن کے دل دکھتے ہیں۔ یہ لوگ بہت ہی قابلِ رحم ہیں۔ بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دُکانیں دیکھوتو مسجدوں کے نیچے ہیں۔ مگرکبھی جاکر کھڑے بھی تو ہیں ہوتے۔ پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کہ خداتعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہئے کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں۔ نماز اور عبادت کا بھی ایکبار مزہ چکھادے۔ کھایا ہوا یادرہتاہے۔ دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سُرور کے ساتھ دیکھتا ہے، تو وہ اُسے خوب یادرہتا ہے اور پھر اگر کسی بدشکل اور مکروہ ہیت کودیکھتا ہے، تو اس کی ساری حالت بہ اعتبار اس کے مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہوتو، کچھ یادنہیںرہتا۔ اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نمازایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اُٹھ کر سردی میں وضو کرکے خوابِ راحت چھوڑ کرکئی قسم کی آسائشوں