مگر اس میں اُن کے لئے ایک حظ ہے اور ایک لذت ہے۔ یہ حظ اور لذت اس درجہ تک پہنچتی ہے کہ بعض کو تاہ اندیش انسان اولاد کی بھی پروا اور خیال نہیں کرتے، بلکہ ان کو صرف حظ ہی سے کام اور غرض ہے۔ خداتعالیٰ کی علت غائی بندوں کو پیدا کرنا تھا اور اس سبب کیلئے ایک تعلق عورت مرد میں قائم کیا اور ضمناً اس میں ایک حظ رکھ دیا جو اکثرنادانوں کے لئے مقصود بالذات ہوگیا ہے۔ اسی طرح سے خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔ اس میں بھی ایک لذت اور سُرور ہے اور یہ لذت اور سُرور دُنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالاتراور بلندہے۔ جیسے عورت اور مرد کے باہمی تعلقات میں ایک لذات ہے اور اس سے وہی بہرہ مند ہوسکتا ہے جو مرد اپنے قویٰ صحیحہ رکھتا ہے۔ ایک نامرداور مخنث وہ حظ نہیں پاسکتا اور جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کمبخت انسان ہے جو عبادتِ الہٰی سے لذت نہیں پاسکتا۔
عبودیّت اور بوبیّت کے رشتہ کی حقیقت
عورت اور مرد کا جورا تو باطل اور عارضی جوڑا ہے۔ مَیں کہتا ہوں حقیقی ابدی اور لذت مجسم جوجوڑ ہے وہ انسان اور خداتعالیٰ کا ہے۔ مجھے سخت اضطراب ہوتا اور کبھی کبھی یہ رنج میری جان کو کھانے لگتا ہے کہ ایک دن اگر کسی کو روٹی یا کھانے کا مزانہ آئے، تو طبیب کے پاس جاتا اور کیسی کیسی منتیں اور خوشامدیںکرتا ہے۔ روپیہ خرچ کرتا ۔ دُکھ اُٹھاتا ہے کہ وُہ مزا حاصل ہو۔ وہ نامرد جو اپنی بیوی سے لذت حاصل نہیں کرسکتا۔ بعض اوقات گھبرا گھبرا کرخودکشی کے ارادے تک پہنچ جاتا اور اکثر موتیں اس قسم کی ہوجاتی ہیں۔ مگر آہ! وہ مریض دل ۔ وہ نامرادکیوں کوشش نہیں کرتا جس کی عبادت میں لذت نہیں آتی؟ اس کی جان کیوں غم سے نڈھال نہیں ہوجاتی؟دُنیا اور اس کی خوشیوں کے لئے کیا کچھ کرتا ہے۔ مگر ابدی اور حقیقی راحتوں کی وُہ پیاس اور تڑپ نہیں پاتا۔ کس قدر بے نصیب ہے ! کیسا ہی محروم ہے! عارضی اورفانی لذتوں کے علاج تلاش رتا ہے اور پالیتا ہے۔ کیاہوسکتا ہے کہ مُستقل اور ابدی لذت کے علاج نہ ہوں؟ ہیں اور ضرور ہیں ۔ مگر تلاشِ حق میں مستقل اور پویہ قدم درکار ہیں۔ قرآن کریم میں ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے صالحین کی مثال عورتوں سے دی ہے۔ اس میں بھی سِرّاوربھید ہے۔ ایمان لانے والوں کو مریم اورآسیہ سے مثال دی ہے یعنی خداتعالیٰ مشرکین میں سے مومنوں کو پیداکرتا ہے۔ بہرحال عورتوں سے مثال دینے میں دراصل ایک لطیف راز کا اظہار ہے یعنی جس طرح عورت اورمرد کا باہم تعلق ہوتا ہے، اسی طرح عبودیت اور ربوبیت کا رشتہ ہے۔ اگر عورت اور مرد کی باہم موافقت ہو اور ایک دوسرے پر فریفتہ ہوتو وہ جوڑا ایک مبارک اور مفید جوڑا ہوتا ہے، ورنہ نظام خانگی بگڑ جاتا ہے اور مقصود بالذات حاصل نہیں ہوتا ہے۔ مرد اور جگہ خراب ہوتا ہے صدہا قسم کی بیماریاں لے آتا ہے۔آتشک سے مجذوم ہوکر دنیا میں ہی محروم ہوجاتا ہے۔ اوراگر اولاد ہو بھی جائے تو کئی پُشت تک یہ سلسلہ برابرچلا جاتا ہے اورادھر عورت بے حیائی کرتی پھرتی اور عزت وآبُرو وک ڈبوکر بھی سچی راحت حاصل نہیں کرسکتی۔ غرض اس جوڑے سے الگ ہوکر کس قدر