متقی کے لئے روحانی رزق ایسا ہی اللہ تعالیٰ متقی کو رزق دیتا ہے ۔یہاں میںمعارف کے رزق کا ذکر کروں گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوباوجود امی ہونے کے تمام جہان کامقابلہ کرنا تھا،جس میں اہل کتاب،فلاسفر،اعلیٰ درجہ کے علمی مذاق والے لوگ اور عالم فاضل شامل تھے ،لیکن آپ کو روحانی رزق اس قدر کے ملا کہ آپ سب پر غالب آئے اور ان سب کی غلطیاں نکالیں ۔ یہ روحانی رزق تھاجس کی نظیر نہیں ۔متقی کی شان میں دوسری جگہ یہ بھی آیا ہے ۔اِنْ اَوْلِیَآئُ ہُ اَلَّا الْمُتَّقُوْنَ (الانفال۳۵)اللہ تعالیٰ کے ولی وہ ہیںجو متقی ہیں،یعنی اللہ تعالیٰ کے دوست۔پس یہ کیسی نعمت ہے کہ تھوڑی سی تکلیف سے خدا کا مقرب کہلائے۔آجکل زمانہ کس قدر پست ہمت ہے ۔اگر کوئی حاکم یا افسر کسی کو یہ کہہ دے کہ تو میرا دوست ہے،یا اگر کوئی کرسی دے اور اس کی عزت کرے ،تو وہ شیخی کرتا ہے ۔ فخر کرتا پھرتا ہے ،لیکن اس انسان کا کس قدر افضل رتبہ ہو گا جس کو اللہ تعالیٰ اپنا ولی یا دوست کہہ کر پکارے۔اللہ تعالٰ نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے یہ وعدہ فرمایا ہے ۔ جیسے کہ ایک حدیث بخاری میں وارد ہے:لَایَزَالُ یَتَقَرَّبُ عَبْدِیْ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہ‘ فَاِذَااَحْیَیْتُہ‘ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ وَبَصَرُہُ الَّذِیْ یُبْصِرُبِہٖ وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِھَاوَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِھَاوَلَئِنْ سَائَ لَنِیْ لَاَعْطَیْتَہُ وَلَئِنْ اِسْتَعَاذَ نِیْ لَاُعِیْدَنَّہ‘۔(صحیح بخاری۔ جز رابع۔ باب التواضع)یعنی اللہ تعالی میرا ولی ایسا قرب میرے ساتھ بذریعہ نوافل پیدا کر لیتا ہے۔ فرئض اور نوافل انسان جس قدر نیکیاں کرتا ہے ،اس کے دو حصے ہوتے ہیں ۔ایک فرائض ،دوسرے نوافل ۔ فرائض یعنی جو انسان پر فرض کیا گیا ہو ۔جیسا کے قرضہ اتارنا ۔یا نیکی کے مقابل پر نیکی ۔ان فرائض کے علاوہ ہر ایک نیکی کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں ،یعنی ایسی نیکی جو اس کے حق سے فاضل ہو ۔جیسے احسان کے مقابل احسان کے علاوہ اور احسان کرنا۔یہ نوافل ہیں ۔یہ بطور مکملات اور متممات فرائض کے ہیں۔اس حدیث میں بیان ہے کہ اولیاء اللہ کے دینی فرائض کی تکمیل نوفل سے ہو رہتی ہے۔مثلاً زکوہ کے علاوہ وہ اور صدقات دیتے ہیں ۔اللہ تعالٰ ایسوں کا ولی ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی دوستی یہاں تک ہوتی ہے کہ میں اس کے ہاتھ ،پاؤں حتٰی کے اس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔ ہر ایک فعل خدا کی منشاء کے مطابق ہو بات یہ ہے کہ جب انسان نفس سے پاک ہوتا ہے اور نفسانیت چھوڑ کر خدا کے ارادوں کے اندر چلتا ہے،اس کا کوئی فعل ناجائز نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک فعل خدا کی منشاء کے مطابق ہوتا ہے۔جہاں لوگ ابتلا میں پڑتے ہیں وہاںیہ ا مر ہمیشہ ہوتا ہے کہ وہ فعل خداکے ارادہ سے مطابق نہیں ہوتا۔خدا کی رضا اس کے بر خلاف ہوتی ہے۔ایسا شخص اپنے جذبات کے نیچے چلتا ہے۔مثلاً غصہ میں آکر کوئی ایسا فعل اس سے سر ذد ہو جاتا ہے جس سے مقدمات بن جایا کرتے ہیں ۔فوجداریاں ہو جاتی ہیں،