مشاؔ ہدہ کرتے ہیں جس مشاہدہ کے ہم خود گواہ رویت ہیں کہ یہی سنت اللہ اور قانون قدرت ہے کہ خدا کا کلام مع الفاظ دل پر نازل ہوتا اور زبان پر جاری ہوتا ہے وہ صرف مفہوم نہیں ہوتا بلکہ اُس کے ساتھ لفظ بھی ہوتے ہیں اور جیسا کہ خدا کا فعل بے نظیر ہے ایسا ہی وہ خدا کا کلام بھی بے مثل ہوتا ہے اِس طرح پر کہ نہایت درجہ کی بلاغت فصاحت کے ساتھ امور غیبیہ سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک طاقت اور برکت اور کشش ہوتی ہے جو اپنی طرف کھینچتی ہے اور ایک نور ہوتا ہے جو تاریکی کو دُور کرتا ہے اور پیروی کرنے والے کو اُس نور سے منور کرتا ہے اور اُس کو خدا سے نزدیک کر دیتا ہے اور اُس کے ذریعہ سے پیروی کرنے والا گندی زندگی سے نجات پاکر بغیر اس کے جو ہزاروں جونوں میں ڈالا جائے اُسی پہلی جون میں ہی نجات پا لیتا ہے مگر افسوس !کہ وید میں نہ وہ طاقت ہے نہ وہ نور ہے نہ وہ کشش ہے اسی وجہ سے وید کے ذریعہ مکتی پانے والے اب تک سب کے سب کیڑے مکوڑے اورسؤر بندر ہی نظر آتے ہیں اور صرف تھوڑے سے انسان ہیں باقی تمام سطح زمین اور سمندر اور اکاش کا فضا کیڑوں مکوڑوں اور حیوانات سے بھرا پڑا ہے جن کا شمار بجز خدا کے کسی کی طاقت اور قدرت کے اندر نہیں۔ اور پھر یہ عجیب بات ہے کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ کیڑے کو بھی دیکھ کر ہم یقین کامل سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ خدا کا بنایا ہوا ہے مگر وید میں ہمیں کوئی ایسی فوق العادت بات نظر نہیں آتی کہ ہمیں اِس بات کے ماننے کے لئے مجبور کرے کہ وہ ضرور خدا کا کلام ہے۔ اور ایک مکھی کو دیکھ کر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی ہے لیکن اگر ہم تمام و ید اول سے آخر تک پڑھ جائیں تو ہمیں کوئی خدائی صنعت اس میں ایسی معلوم نہیں ہوتی جس سے ہمیں خیال آسکے کہ یہ کتاب خدا کی طرف سے ہے۔ نہ اس میں کسی معجزہ کا ذکر ہے اور نہ اس میں کوئی پیشگوئی ہے اور نہ اس میں انسانی طاقت سے بڑھ کرعلوم ہیں بلکہ صرف موٹے خیالات ہیں جو جا بجا غلطیوں سے بھرے ہوئے ہیں