پس ؔ ایسی کتاب کیونکہ قبول کرنے کے لائق ہے جو اپنی حیثیت اور مرتبہ میں ایک مکھی کے برابر بھی نہیں۔ کیا یہ سچ نہیں ؟ کہ مکھی کو دیکھ کر اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس کے بنانے پر انسان قادر نہیں ہوسکتا۔ مگر کیا وید کو کوئی عقلمند پڑھ کر کہہ سکتا ہے ؟ کہ اس کے بنانے پر بھی انسان قادر نہیں۔ پس اگر مکھی کے موافق بھی جو ایک ذلیل تر جاندار ہے وید میں کوئی اعجوبہ نہیں تو عقل تجویز نہیں کرسکتی کہ وہ اُس خدا کا کلام ہے جس کا قول ایسا بے نظیر ہونا چاہیئے جیسا کہ اُس کا فعل بے نظیر ہے۔
رہا یہ قول مضمون خواں صاحب کا کہ اس کے خیال کے موافق اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ گویا خدا انسان کی طرح آسمان پر بیٹھا ہوا ہے سو یہ محض اس کی ناواقفی ہے چونکہ ہندو لوگ محض اپنی جہالت اور بخل اور تعصب کی راہ سے قرآن شریف پر ایک نظر تدبر بھی نہیں ڈالتے اس لئے ایسے ایسے شیطانی اعتراض ان کو سوجھتے ہیں۔ پس واضح ہو کہ قرآن شریف کی تعلیم کے رُو سے خدا جیسا کہ آسمان پر ہےزمین پر بھی ہے جیسا کہ اُس نے فرمایا ہے 3 3 ۱ یعنی زمین میں وہی خدا ہے اوروہی آسمان میں خدا اور فرمایا کہ کسی پوشیدہ* مشورہ میں تین آدمی نہیں ہوتے جن کے ساتھ چوتھا خدا نہیں ہوتا اور فرمایا کہ وہ غیر محدود ہے جیسا کہ اس آیت میں لکھا ہے 3 ۲ یعنی آنکھیں اس کے انتہا کو نہیں پاسکتیں اور وہ آنکھوں کے انتہا تک پہنچتا ہے۔ ایسا ہی خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے3 ۳ یعنی ہم انسان کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اُس سے نزدیک ہیں اور یہ بھی ایک جگہ فرمایا کہ خدا ہر ایک چیز پر محیط ہے اور یہ بھی فرمایا کہ 3۴ یعنی خدا وہ ہے جو انسان اور اس کے دل میں حائل ہو جاتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ 3 ۵ یعنی خدا وہ ہے جو زمین و آسمان میں اُسی کے چہرہ کی چمک ہے اور اس کے بغیر سب تاریکی ہے اور یہ بھی فرمایا کہ33 ۶ یعنی ہر ایک وجود ہلاک ہونے والا
*حاشیہ۔ قرآن شریف کی اس بارہ میں یہ آیت ہے مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ ۷ یعنی تین شخص کوئی ایسا پوشیدہ مشورہ نہیں کرتے جس کا چوتھا خدا نہ ہو اور نہ پانچ کرتے ہیں جن کا چھٹا خدا نہ ہو ۔ منہ