کہؔ شیطان اپنے تمام ذُرّیات کے ساتھ ناخنوں تک زور لگا رہا ہے کہ اسلام کو نابود کردیا جاوے اور چونکہ بلاشبہ سچائی کا جھوٹ کے ساتھ یہ آخری جنگ ہے اس لئے یہ زمانہ بھی اِس بات کا حق رکھتا ہے کہ اس کی اصلاح کے لئے کوئی خدا کامامور آوے۔ پس وہ مسیح موعود ہے جو موجود ہے۔ اور زمانہ حق رکھتا تھا کہ اس نازک وقت میں آسمانی نشانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی دنیا پر حجت پوری ہو سو آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں۔ اورآسمان جوش میں ہے کہ اس قدر آسمانی نشان ظاہر کرے کہ اسلام کی فتح کا نقّارہ ہر ایک ملک میں اور ہر ایک حصہ دُنیا میں بج جائے۔ اے قادر خدا !تو جلد وہ دن لاکہ جس فیصلہ کا تونے ارادہ کیا ہے وہ ظاہر ہوجائے اور دُنیا میں تیرا جلال چمکے اور تیرے دین اور تیرے رسول کی فتح ہو۔ آمین ثم آمیْن۔
اب ہم پھر اصل مقصد کی طرف رجوع کرکے باقی ماندہ مضمون کی نسبت جو آریہ صاحبوں کی طرف سے جلسہ میں پڑھا گیا تھا کچھ لکھتے ہیں۔ چنانچہ مضمون خوان نے اسلام پر ایک یہ بھی اعتراض کیا کہ گویا اسلام کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن شریف اسی طرح کاغذوں پر یا پتھروں پر لکھا ہوا آسمان پر سے نازل ہوا تھا اور پھر خود ہی اس عقیدہ پر ٹھٹھا اُڑاکر کہتا ہے کہ اول تو خدا آسمان پر بیٹھا ہوا نہیں اور پھر اگر ہم فرض بھی کرلیں تو ایسی کتاب اکاش سے گذرتی ہوئی جل سڑ جائے گی۔ لیکن افسوس کہ یہ لوگ اس جہالت اور بے خبری کے ساتھ جو اسلام کی نسبت رکھتے ہیں پھر بھی جلدی سے اعتراض کر دیتے ہیں معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن شریف کاغذ پر لکھا ہوا آسمان سے نازل ہوا تھا۔ اِس بات کو تو ایک ناخواندہ مسلمان بھی جانتا ہے کہ قرآن شریف کا نازل ہونا اس طور سے مانا جاتا ہے کہ وہ خدا کا پاک کلام ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دِل پر نازل ہوا اور اِسی طرح ہم اب بھی خدا تعالیٰ کا قانونِ قدرت