اپنی ؔ ممتاز حالت ثابت کرے اور دُنیا کے اِس سرے سے اُس سرے تک کوئی مذہب نشانِ آسمانی میں اُس کا مقابلہ نہ کرسکے باوجود اِس بات کے کہ کوئی حصہ آبادی دُنیا کا اِس دعوت مقابلہ سے بے خبر نہ ہو۔ یہ امر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کامل طور پر ظہور پذیر ہوناناممکن تھا کیونکہ اس کے لئے یہ شرط تھی کہ دنیاکی تمام قوموں کو جو مشرق اور مغرب اور جنوب اور شمال میں رہتی ہیں یہ موقعہ مل سکے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابل پر اپنے مذہب کی تائید میں خدا سے چاہیں جو آسمانی نشانوں سے اس مذہب کی سچائی پر گواہی دے مگر جس حالت میں ایک قوم دوسری قوم سے ایسی مخفی اور محجوب تھی کہ گویا ایک دوسری دنیا میں رہتی تھی تو یہ مقابلہ ممکن نہ تھا اور نیز اس زمانہ میں ابھی اسلام کی تکذیب انتہا تک نہیں پہنچی تھی اور ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ خدا کی غیرت تقاضا کرے کہ اسلام کی تائید میں آسمانی نشانوں کی بارش ہو مگر ہمارے زمانہ میں وہ وقت آگیا کیونکہ اس زمانہ میں گندی تحریروں کے ذریعہ سے اس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی توہین کی گئی ہے کہ کبھی کسی زمانہ میں کسی نبی کی توہین نہیں ہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو ثابت نہیں ہوتا کہ کسی عیسائی یا یہودی نے اسلام کے رد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین میں دو یا تین ورق کا رسالہ بھی لکھا ہو مگر اب اِس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور اسلام کے رد میں کتابیں لکھی گئیں اور اشتہار شائع کئے گئے اور اخباریں تمام دنیا میں پھیلائی گئیں کہ اگر وہ تمام جمع کی جائیں تو وہ ایک بڑے پہاڑ کے برابر طومارہوتا ہے بلکہ اس سے زیادہ۔ ان اندھوں نے اسلام کو ہر ایک برکت سے بے بہرہ قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آسمانی نشان نہیں دکھلایا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ دنیا میں اسلام کا نام و نشان نہ رہے اور ایک عاجز انسان کی خدائی ثابت کرنے کے لئے خدا کے پاک دین اور پاک رسول کی وہ توہین کی گئی ہے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی دین اور کسی رسول کی ایسی توہین نہیں ہوئی اور درحقیقت یہ ایسا زمانہ آگیا ہے