جسؔ میں اسلام کے مقابل پر عقل یا نقل کے رنگ میں کچھ لکھا گیا ہو بلکہ وہ لوگ صرف تلوار سے ہی غالب ہونا چاہتے تھے اِس لئے خدا نے تلوار سے ہی اُن کو ہلاک کیا مگر ہمارے اِس زمانہ میں اسلام کے دشمنوں نے اپنے طریق کو بدل لیا ہے اور اب کوئی مخالف اسلام کا اپنے مذہب کے لئے تلوار نہیں اُٹھاتا اور یہی حکمت ہے کہ مسیح موعود کے لئے یضع الحرب کا حکم آیا یعنی جنگ کی ممانعت ہوگئی اور تلوار کی لڑائیاں موقوف ہوگئیں اور اب قلمی لڑائیوں کا وقت ہے اور چونکہ ہم قلمی لڑائیوں کے لئے آئے ہیں اِس لئے بجائے لوہے کی تلوار کے لوہے کی قلمیں ہمیں ملی ہیں۔ اور نیز کتابوں کے چھاپنے اور دُور دراز ملکوں تک اُن تالیفات کے شائع کرنے کے ایسے سہل اور آسان سامان ہمیں میسر آگئے ہیں کہ گذشتہ زمانوں میں سے کسی زمانہ میں اُن کی نظیر پائی نہیں جاتی۔ یہاں تک کہ وہ مضمون جو برسوں تک لکھنے ناممکن تھے وہ دنوں میں لکھے جاتے ہیں۔ ایسا ہی وہ تالیفات جن کا دوردراز ملکوں میں پہنچانا مدت ہائے دراز کا کام تھا وہ تھوڑے ہی دنوں میں ہم دنیا کے کناروں تک پہنچا سکتے ہیں اور اپنی حجت بالغہ سے تمام قوموں کو مطلع کرسکتے ہیں۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ اشاعت اور اتمام حجت ناممکن تھی کیونکہ اُس وقت نہ کتابوں کے چھاپنے کے آلات تھے اور نہ دوسرے ممالک میں کتابوں کے پہنچانے کے لئے سہل اور آسان طریق میسر تھے۔ (۳) تیسرا امر جو اِس بات کو تمام دنیا پر واضح کرنے کے لئے شرط ہے کہ فلاں دین بمقابل دنیا کے تمام دینوں کے خاص طور پر خدا سے تائید یافتہ ہے اور خدا کا خاص فضل اور خاص نصرت اپنے ساتھ رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ بمقابل دنیا کی تمام قوموں کے ایسے طور سے تائید الٰہی کے آسمانی نشان اُس کے شامل ہوں کہ دوسرے کسی دین کے شامل حال نہ ہوں اور بغیر ذریعہ انسانی ہاتھوں کے خدا دوسرے دینوں کو تباہ کرتا جائے اور ان کے اندر سے روحانی برکت اُٹھالے مگر وہ دین دوسرے دینوں کے سامنے خدا کے چمکدار نشانوں سے