غالب ؔ ہے کیونکہ غلبہ دکھلانے کے لئے یہ شرط ہے کہ ان تمام مذاہب کا لوگوں کو علم بھی ہو جن پر غالب ہونے کا اظہار بھی کیا گیا ہے اور نیز جن کو مغلوب سمجھا گیا ہے وہ بھی اِس بات کا علم رکھتے ہوں کہ ہم اِس الزام کے نیچے ہیں۔ اوریہ تو تبھی ہوسکتا ہے کہ مختلف ممالک کے لوگ ایسے باہم قریب ہوجائیں کہ گویا وہ ایک ہی محلہ میں رہتے ہیں اور ظاہرہے کہ یہ امر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ظہور میں نہیں آسکا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کئی قومیں زمین کے دور دراز کناروں پر آباد تھیں اور پیغام پہنچانے اور سفرکرنے اور باہمی جلد ملاقات کرنے کے وہ سامان موجود نہ تھے کہ جو اب اِس وقت ہمارے اِس زمانہ میں موجود ہیں۔
(۲) دوسرا امر جو اس بات کے سمجھنے کے لئے شرط ہے کہ ایک دین دوسرے تمام دینوں پر اپنی خوبیوں کے رو سے غالب ہے یہ ہے جو دنیا کی تمام قومیں آزادی سے باہم مباحثات کرسکیں اور ہر ایک قوم اپنے مذہب کی خوبیاں دوسری قوم کے سامنے پیش کرسکے اور نیز تالیفات کے ذریعہ سے اپنے مذہب کی خوبی اور دوسرے مذاہب کا نقص بیان کرسکیں اور مذہبی کشتی کے لئے دُنیا کی تمام قوموں کو یہ موقعہ مل سکے کہ وہ ایک ہی میدان میں اکٹھے ہوکر ایک دوسرے پر مذہبی بحث کے حملے کریں اور جیسا کہ دریا کی ایک لہر دُوسری لہر پر پڑتی ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں مشغول ہوں اور یہ مذہبی کشتی نہ ایک دو قوم میں بلکہ عالمگیر کشتی ہو جو دُنیا کی قوموں میں سے کوئی قوم اِس کشتی سے باہر نہ ہو۔ سو اس قسم کا غلبہ اسلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں میسر نہیں آسکا۔ کیونکہ اوّل تو اُس زمانہ میں دُنیا کی تمام قوموں کا اجتماع ناممکن تھا اور پھر ماسوا اِس کے جن قوموں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ پڑا اُن کو مذہبی امور میں دلائل سننے یا دلائل سنانے سے کچھ غرض نہ تھی بلکہ اُنہوں نے اُٹھتے ہی تلوار کے ساتھ اسلام کو نابود کرنا چاہا اور عقلی طور پر اس کے رد کرنے کے لئے قلم نہیں اُٹھائی۔ یہی وجہ ہے کہ اُس زمانہ کی کوئی ایسی کتاب نہیں پاؤگے