قومؔ کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہوجائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی اُمّت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اُسی کا نام خاتم الخلفاء ہے پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اُس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دُنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اُسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اوروہ یہ ہے۔3 ۱؂ یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجاتا اُس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کردے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اورچونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلّف ہو اس لئے اِس آیت کی نسبت اُن سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا کیونکہ اس عالمگیر غلبہ کے لئے تین امر کا پایا جانا ضروری ہے جو کسی پہلے زمانہ میں وہ پائے نہیں گئے۔ (۱) اول یہ کہ پورے اور کامل طور پر مختلف قوموں کے میل ملاقات کے لئے آسانی اور سہولت کی راہیں کھل جائیں اور سفر کی ناقابل برداشت مشقتیں دور ہوجائیں اور سفر بہت جلدی طے ہوسکے گویا سفر سفر ہی نہ رہے اور سفر کو جلد طے کرنے کے لئے فوق العادت اسباب میسرّ آجائیں کیونکہ جب تک مختلف ممالک کے باشندوں کے لئے ایسے اسباب اور سامان حاصل نہ ہوں کہ وہ فوق العادت کے طور پر ایک دوسرے سے مل سکیں اور بآسانی ایک دوسرے کی ایسے طور سے ملاقات کرسکیں کہ گویا وہ ایک ہی شہر کے باشندے ہیں تب تک ایک قوم کے لئے یہ موقعہ حاصل نہیں ہوسکتا کہ وہ یہ دعویٰ کریں کہ اُن کا دین تمام دنیا کے دینوں پر