آریہ سماج لاہور کا جلسہ ۴؍ دسمبر ۱۹۰۷ ء کے بعد جو رات تھی اس میں ختم ہوگیا۔ جو لوگ ہمارے مضمون کے پڑھے جانے کے وقت حاضر تھے اُن کو معلوم ہوگا کہ کس تہذیب اور نرمی اور صلح کاری کا وہ مضمون تھا اور کس ادب سے ہم نے اُن کے رشیوں اور اوتاروں اور اُن لوگوں کے نام لئے جن کی طرف وید منسوب کئے جاتے ہیں اور جو اُن کی قوم کے پیشوا اور رہبر خیال کئے جاتے ہیں۔ لیکن بقول شخصے کہ ہر ایک برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اُس کے اندر ہے۔ آریہ صاحبوں نے اپنے مضمون میں وہ گند ظاہر کیا اور اس قدر توہین اور تحقیر انبیاء علیہم السلام کی کی جو اس سے بڑھ کر متصور نہیں ہوسکتی بالخصوص ہمارے سیّد و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت وہ د لآزار اور گندے لفظ اور توہین اور تحقیر کے کلمے اور سراسر دروغ اور جھوٹی تہمتیں اور بے جاالزام جو سراسرگالیاں تھیں اِس قدر