سن کر وہ توہین اور تکذیب سے باز آجاتے مگر دوسرے دن جو اُن کا مضمون تھا اُس میں اُنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر توہین کی کہ سارا مضمون گالیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اگر میری طرف سے اپنی جماعت کے لئے صبر کی نصیحت نہ ہوتی اور اگر میں پہلے سے اپنی جماعت کواس طور سے تیار نہ کرتا کہ وہ ہمیشہ بدگوئی کے مقابل پر صبرکریں تووہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا مگر یہ صبرکی تعلیم تھی کہ اُس نے ان کے جوشوں کو روک لیا۔ آریوں نے اُن معزز لوگوں کے منہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور اسلام کی سخت توہین کی لیکن وہ سب معزز مسلمان چپ رہے۔ وہ سخت طور پر دُکھ دئیے گئے مگر اُنہوں نے دم نہ مارا۔ صرف اتنا کیا کہ آریوں کے مضمون کے نوٹ بڑی احتیاط سے لکھ کر لے آئے اور میں نے دیکھا کہ ان کو آریوں کے مضمون سے بڑا صدمہ پہنچا۔ خاص کر ا س وجہ سے کہ گھر پر بلاکر گالیاں دی گئیں۔ اگر اپنے طور پر کوئی کتاب شائع کرتے تو اور بات تھی۔ اُن کے دل پاش پاش ہوگئے اور ان کو جھوٹ بول کردھوکہ دیا گیا نہ معلوم یہ آریہ لوگ کس فطرت کے انسان ہیں۔ ہر ایک شخص دوسرے کی حالت کو اپنے پر قیاس کرسکتا ہے۔ کیا وہ توہین جو انہوں نے مسلمانوں کو گھر پر بلاکر اسلام کی کی۔ کیا وہ بدزبانی جو اُنہوں نے آنحضرت صلعم کی بالمواجہ کی وہ نہیں سمجھ سکتے تھے کہ ہم نے کیا کیا۔ اگر ہم اپنے مضمون میں جو اُن کے جلسہ میں سنایا گیایہی گالیاں اُن کے رشیوں کو دیتے جن کو بقول ان کے پرمیشر کی طرف سے وید ملا تھا اور یا وید کی نسبت توہین سے پیش آتے تو کیا وہ ہمارے اس مضمون سے خوش ہوتے؟ یقیناًسمجھو کہ اُس انسان سے زیادہ تر خبیث اور ناپاک طبع کوئی نہیں ہوتا کہ جو مہمانوں کو گھر پر بلاوے اور پھر فیس کے طور پر بہت سا روپیہ بھی وصول کرے اور آخر گالیاں دے کر اور دل دُکھا کر رخصت کرے۔ بعض نے آریوں میں سے مضمون سنا چکنے کے بعد یہ بھی کہا کہ بیشک یہ مضمون جو آریوں کی طرف سے سنایا گیا ہے یہ گندہ ہے اور اس میں توہین اور گالیاں ہیں مگر اس کی ہمیں اطلاع نہیں تھی مگر کوئی عقلمند اس عذر کو باور نہیں کرے گا کہ یہ گندہ مضمون بغیر مشورہ اِن معزز ممبروں کے سنایا گیا تھا۔ غرض وہ نوٹ جو بڑی احتیاط سے لکھے گئے تھے اُنہیں کی بنا پر یہ رسالہ لکھا گیا ہے جس میں آریوں کے اعتراضات کا جواب ہے اگرچہ اُن کا رسالہ بھی مجھے پہنچ گیا ہے۔ مگر جن گندی باتوں کو ہزارہا لوگوں نے سنا تھا اس کاجواب اس رسالہ میں دیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ انہوں نے اپنے مطبوعہ رسالہ میں کمی بیشی کی ہو۔اس کو خود ناظرین پڑھ لیں گے۔ میں نے یہ رسالہ دو غرض سے لکھا ہے۔ (۱) ایک یہ کہ تا اُن اعتراضوں کا جواب پبلک کو معلوم ہوجائے(۲) دوسری یہ کہ تا مسلمانوں کے دلوں میں جو آریہ لوگوں کی سخت گوئی کی وجہ سے ایک جوش ہے وہ جوش جواب تر کی بتر کی سن کر کم ہو جائے اور شائد آریہ لوگ آئندہ شرارتوں سے باز آجائیں۔ والسلام علٰی من اتبع الہدیٰ۔ الراقم میرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود۔ ۱۵؍ مئی ۱۹۰۸ ؁ء ۔مطابق ۱۴ ؍ ربیع الثانی ۱۳۲۶ ؁ ہجری موافق ۱۵؍ بیساکھ سمت ۱۹۶۵ بکرمی۔