بار ؔ بار آواز بلند سے تمام مجمع کو سنائیں جو تین ہزارآدمی سے کم نہ تھا اور ایسے طور سے سمجھا سمجھا کر اپنے ناپاک اور فتنہ انگیز بیان کو ادا کیا کہ اگر پاک طبع مسلمانوں کو اپنی تہذیب کاخیال نہ ہوتا اور بموجب قرآنی تعلیم کے صبر کے پابند نہ رہتے اور اپنے غصہ کو تھام نہ لیتے تو بلاشبہ یہ بدنیّت لوگ ایسی اشتعال دہی کے مرتکب ہوئے تھے کہ قریب تھا کہ وہ جلسہ کا میدان خون سے بھر جاتا۔ مگر ہماری جماعت پر ہزار آفرین ہے کہ انہوں نے بہت عمدہ نمونہ صبر اور برداشت کا دکھایا اوروہ کلمات آریوں کے جو گولی مارنے سے بدتر تھے اُن کو سن کر چپ کے چپ رہ گئے۔ دراصل ہماری جماعت نے جو اُن کی دعوت جلسہ کو قبول کیا تو وہ اپنی سادگی اور نیک ظنی سے اُن کے دھوکہ میں آگئی۔ پیچھے سے پتہ لگ گیا کہ اُن کا اس جلسہ میں بلانے سے اور ہی ارادہ تھا۔ پر ان مہذب لوگوں کے صبر اور برداشت نے اس بدارادہ کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔ اگر آریہ لوگ بغیر انعقاد جلسہ کے اپنے طور سے کوئی کتاب لکھتے اور یہ گالیاں اُس کتاب میں چھاپتے جیسا کہ سفلہ طبع لیکھرام نے اسی کام میں اپنی عمر گذاری جب تک کہ اس کی زبان کی چُھری نے اِس دنیا سے اُس کو اُٹھا لیا تو یہ اور صورت تھی لیکن ا ن لوگوں نے تو اپنے جلسہ میں مہمان کے طور پر ہمیں مدعو کیا اور میری طرف چھ۶ یا سا۷ت انکساری کے خط لکھے اور منافقانہ طور
پر عجز و نیاز ظاہر کرکے یہ چاہا کہ ہم اس جلسہ میں شریک ہوں اوروعدہ کیا کہ کوئی بے تہذیبی نہیں ہوگی اور ہر ایک کے لئے مہذبانہ طرز کو شرط ٹھہرادیا۔ اور مجھے ترغیب دی کہ جہاں تک ممکن ہوسکے آپ کی جماعت سننے کے لئے آوے۔ میں اُن کے خطوں کے پڑھنے سے جو سراسر نرمی سے لکھے گئے تھے بہت خوش ہوا اور دل میں خیال کیا کہ اگرچہ آریہ صاحبوں کی حالت جس قدر آج تک تجربہ میں آچکی ہے وہ یہی ہے کہ بجز اپنے وید اور اس کے چار رشیوں کے باقی تمام انبیاء علیہم السلام کو نہایت سخت گالیاں دیتے اور طرح طرح کی توہین کرتے ہیں۔ اور اس طرح پر کروڑہا مسلمانوں کے دل دُکھاتے ہیں۔ لیکن کیا تعجب کہ اب ایک تازہ تنبیہ کی وجہ سے جو ان کے بعض افراد کی شوخیوں کی نسبت ضرورتاً گورنمنٹ کی طرف سے عمل میں آئی ہے