ابؔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب کہ ایک طرف بائبل سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ یورپ کے عیسائی فرقے ہی یاجوج ماجوج ہیں اور دوسری طرف قرآن شریف نے یاجوج ماجوج کی وہ علامتیں مقرر کی ہیں جو صرف یورپ کی سلطنتوں پر ہی صادق آتی ہیں جیسا کہ یہ لکھا ہے کہ وہ ہر ایک بلندی پر سے دوڑیں گے یعنی سب طاقتوں پر غالب ہو جائیں گے اور ہر ایک پہلو سے دنیا کا عروج اُن کومل جا ئے گا۔ اور حدیثوں میں بھی یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ کسی سلطنت کو اُن کے ساتھ تاب مقابلہ نہیں ہوگی۔ پس یہ تو قطعی فیصلہ ہوچکا ہے کہ یہی قومیں یاجوج ماجوج ہیں اور اس سے انکار کرنا سراسر تحکّم اور خدا تعالیٰ کے فرمودہ کی مخالفت ہے۔ اس میں کس کو کلام ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قول کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے موافق یہی قومیں ہیں جو اپنی دنیوی طاقت میں تمام قوموں پر فوقیت لے گئی ہیں۔ جنگ اور لڑائی کے داؤ پیچ اور ملکی تدابیر کے امور میں دُنیا میں اُن کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا اور انہیں کی کلوں اور ایجادوں نے کیا لڑائیوں میں اور کیا کسی قسم کے دُنیا کے آرام کے سامانوں میں
بقیہ حاشیہ
یہ بیان ہے کہ وہ دجل سے کام لے گا اور مذہبی رنگ میں دنیا میں فتنہ ڈالے گا ۔ سو قرآن شریف میں یہ صفت عیسائی پادریوں کی بیان کی گئی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے3 ۱ اِس تقریر سے ظاہر ہے کہ یہ تینوں ایک ہی ہیں ۔ اسی وجہ ہے سورۃ الفاتحہ میں دائمی طور پر یہ دعاسکھلائی گئی کہ تم عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگو یہ نہیں کہا کہ تم دجّال سے پناہ مانگو پس اگر کوئی اور دجّال ہوتا جس کا فتنہ پادریوں سے زیادہ ہوتا تو خدا کی کلام میں بڑا فتنہ چھوڑ کر قیامت تک یہ دعا نہ سکھلائی جاتی کہ تم عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگو اور یہ نہ فرمایا جاتا کہ عیسائی فتنہ ایسا ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں ۔ پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ۔ بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ دجالی فتنہ ایسا ہے جس سے قریب ہے کہ زمین و آسمان پھٹ جائیں ۔ بڑے فتنے کو چھوڑ کر چھوٹے فتنہ سے ڈرانا بالکل غیر معقول ہے ۔ منہ