کتاؔ بوں میں بھی آیا ہے کہ خدا کے نبیوں کو خدا کی قرنا قرار دیا گیاہے۔ یعنی جس طرح قرنا بجانے والا قرنا میں اپنی آواز پھونکتا ہے اسی طرح خدا اُن کے دِلوں میں آواز پھونکتا ہے اوریاجوج ماجوج کے قرینہ سے قطعی طور سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ قرنا مسیح موعود ہے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ یاجوج ماجوج کے زمانہ میں ظاہر ہونے والا مسیح موعود ہی ہوگا۔ بقیہ حاشیہ کہ ؔ تمام دنیا میں عیسائی قوم کا غلبہ ہوگا جیسا کہ حدیث یکسر الصلیب سے بھی سمجھا جاتا ہے کہ صلیبی قوم کا اس زمانہ میں بڑا عروج اور اقبال ہوگا ۔ ایسا ہی ایک دوسری حدیث سے بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ اس زمانہ میں رومیوں کی کثرت اور قوت ہوگی یعنی عیسائیوں کی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں رومی سلطنت عیسائی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے ۔ 3 ۱؂ اس جگہ بھی روم سے مراد عیسائی سلطنت ہے اور پھر بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت دجّال کا تمام زمین پر غلبہ ہوگا اور تمام زمین پر بغیر مکہ معظمہ کے دجّال محیط ہوجائے گا ۔ اب کوئی مولوی صاحب بتلاویں کہ یہ تناقض کیونکر دور ہو سکتا ہے اگر دجال تمام زمین پر محیط ہو جائے گا تو عیسائی سلطنت کہاں ہوگی۔ ایسا ہی یاجوج ماجوج جن کی عام سلطنت کی قرآن شریف خبر دیتا ہے وہ کہاں جائیں گے ۔ سو یہ غلطیاں ہیں جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں جو ہمارے مکفّر اور مکذّب ہیں۔ واقعات ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ دونوں صفات یاجوج ماجوج اور دجال ہونے کی یورپین قوموں میں موجود ہیں کیونکہ یاجوج ماجوج کی تعریف حدیثوں میں یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے ساتھ لڑائی میں کسی کو طاقت مقابلہ نہیں ہوگی اور مسیح موعود بھی صرف دعا سے کام لے گا اور یہ صفت کھلے کھلے طور پر یورپ کی سلطنتوں میں پائی جاتی ہے اور قرآن شریف بھی اس کا مصدّق ہے ۔ جیسا کہ وہ فرماتاہے 3 ۱؂ ۔ اور دجّال کی نسبت حدیثوں میں