ایکؔ نیا نقشہ دُنیا کا ظاہرکردیا ہے اور انسان کی تمدنی حالت کو ایک حیرت انگیز انقلاب میں ڈال دیا ہے اور تدبیر امور سیاست اور درستی سامان رزم بزم میں وہ یدطولیٰ دکھلایا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی زمانہ میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی پس خدا کے بزرگ نبی کی پیشگوئی سے صدہا سال بعد جو واقعہ اُس پیشگوئی کی مقرر کردہ علامتوں کے موافق ظہور میں آیا ہے وہ یہی واقعہ یورپین طاقتوں کا ہے۔ سو جس طور سے خدا نے یاجوج ماجوج کے معنی ظاہر کردئیے اور جس قوم کو موجودہ واقعہ نے اُن علامات کا مصداق ٹھہرادیا اُس کو قبول نہ کرنا ایک کھلے کھلے حق سے انکار کرنا ہے۔ یوں توانسان جب انکار پر اصرار کرے تو اُس کا منہ کون بند کرسکتا ہے لیکن ایک منصف مزاج آدمی جو طالبِ حق ہے وہ اِن تمام امور پر اطلاع پاکر پورے اطمینان اور ثلج صدر سے گواہی دے گا کہ بلاشبہ یہی قومیں یاجوج ماجوج ہیں۔ اور جب یہ ثابت ہوا کہ یہی قومیں یاجوج ماجوج ہیں تو خود یہ ثابت شدہ امر ہے کہ مسیح موعود یاجوج ماجوج کے وقت میں ظاہر ہوگا جیسا کہ قرآن شریف نے بھی یاجوج ماجوج کے غلبہ اور طاقت کے ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے 3 ۱؂ یعنییاجوج ماجوج کے زمانہ میں بڑا تفرقہ اور پھوٹ لوگوں میں پڑ جائے گی اور ایک مذہب دوسرے مذہب پر اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔ تب اُن دنوں میں خدا تعالیٰ اس پھوٹ کے دُور کرنے کے لئے آسمان سے بغیر انسانی ہاتھوں کے اورمحض آسمانی نشانوں سے اپنے کسی مرسل کے ذریعہ جو صُور یعنی قرنا کا حکم رکھتا ہوگا اپنی پُرہیبت آواز لوگوں تک پہنچائے گا جس میں ایک بڑی کشش ہوگی اور اس طرح پر خدا تعالیٰ تمام متفرق لوگوں کو ایک مذہب پر جمع کردے گا۔ اور احادیث صحیحہ صاف اور صریح لفظوں میں بتلا رہی ہیں کہ یاجوج ماجوج کا زمانہ مسیح موعود کازمانہ ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ جب قوم یاجوج ماجوج اپنی قوت اور طاقت کے ساتھ تمام قوموں پر غالب آجائے گی اور ان کے ساتھ کسی کو تاب مقابلہ نہیں رہے گی۔ تب مسیح موعود کو حکم ہوگا کہ اپنی جماعت کو کوہِ طور کی پناہ میں لے آوے یعنی آسمانی نشانوں کے ساتھ اُن کا مقابلہ کرے