اُنؔ کے سامنے ہم جہنم کو پیش کریں گے یعنی طرح طرح کے عذاب نازل کریں گے جو جہنم کا نمونہ ہوں گے اور پھر فرمایا 3 3 ۱؂ یعنی وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ مسیح موعود کی دعوت اور تبلیغ سے اُن کی آنکھیں پردہ میں رہیں گی اور وہ اُس کی باتوں کو سن بھی نہیں سکیں گے اور سخت بیزار ہوں گے اِس لئے عذاب نازل ہوگا۔ اِس جگہ صُور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے کیونکہ خدا کے نبی اس کی صُور ہوتے ہیں یعنی قرنا۔ جن کے دلوں میں وہ اپنی آواز پھونکتا ہے یہی محاورہ پہلی بقیہ حاشیہ اس ؔ قدر لمبے بنائے ہیں کہ کسی کو ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں اور توالد تناسل بھی ان کا ایشیائی قوموں کی نسبت بہت ہی زیادہ ہے ۔ پس جبکہ موجودہ واقعات نے دکھلادیا ہے کہ ان احادیث کے یہ معنے ہیں اور عقل ان معنوں کو نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ ان سے لذت اٹھاتی ہے تو پھر کیا ضرورت ہے کہ خواہ نخواہ انسانی خلقت سے بڑھ کر ان میں وہ عجیب خلقت فرض کی جائے جو سراسرغیر معقول اور اس قانون قدرت کے بر خلاف ہے جو قدیم سے انسانوں کے لئے چلا آتا ہے اور اگر کہو کہ یاجوج ماجوج جِنّات میں سے ہیں انسان نہیں ہیں تو یہ اور حماقت ہے کیونکہ اگر وہ جِنّات میں سے ہیں تو سَدِّ سکندری اُن کو کیونکر روک سکتی تھی جس حالت میں جِنّاتآسمان تک پہنچ جاتے ہیں جیسا کہ آیت 3 ۲؂ سے ظاہر ہوتا ہے تو کیا وہ سَدِّ سکندری کے اوپر چڑھ نہیں سکتے تھے جو آسمان کے قریب چلے جاتے ہیں اور اگر کہو کہ وہ درندوں کی قسم ہیں جو عقل وفہم نہیں رکھتے تو پھر قرآن شریف اور حدیثوں میں ان پر عذاب نازل کرنے کا کیوں وعدہ ہے کیونکہ عذاب گنہ کی پاداش میں ہوتا ہے اور نیز ان کا لڑائیاں کرنا اور سب پر غالب ہو جانا اور آخر کار آسمان کی طرف تیرچلانا صاف دلالت کرتا ہے کہ وہ ذوالعقول ہیں بلکہ دنیاکی عقل میں سب سے بڑھ کر ۔ حدیثوں میں بظاہر یہ تناقض پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود کے مبعوث ہونے کے وقت ایک طرف تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ یاجوج ماجوج تمام دنیا میں پھیل جائیں گے اور دوسری طرف یہ بیان ہے