بڑا ؔ تفرقہ پھیل جائے گا اور بڑی پھوٹ اور بغض اور کینہ لوگوں میں پیدا ہو جائے گا۔ اور جب یہ باتیں کمال کو پہنچ جائیں گی تب خدا آسمان سے اپنی قرنا میں آواز پھونک دے گا یعنی مسیح موعود کے ذریعہ سے جو اُس کی قرنا ہے ایک ایسی آواز دنیا کو پہنچائے گا جو اس آواز کے سننے سے سعادت مند لوگ ایک ہی مذہب پر اکٹھے ہو جائیں گے اور تفرقہ دُور ہو جائے گا اور مختلف قومیں دُنیا کی ایک ہی قوم بن جائیں گی۔ اور پھر دوسری آیت میں فرمایا۔ 3 333 ۱ ۔ اور اُس دن جو لوگ مسیح موعود کی دعوت کو قبول نہیں کریں گے
بقیہ حاشیہ
(۳ؔ )تیسری قسم کی وہ باتیں ہیں جو قرآن شریف میں اگرچہ ان کا ذکر مفصل نہیں مگر وہ باتیں قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اگر ذرا غور سے کام لیا جائے تو بالکل مطابق ہیں جیسے مثلاََ یاجوج ماجوج کی قوم کہ اجمالی طور پر ان کا ذکر قرآن شریف میں موجود ہے بلکہ یہ ذکر بھی موجود ہے کہ آخری زمانہ میں تمام زمین پر ان کا غلبہ ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے3 ۲ اور یہ خیال کہ یاجوج ماجوج بنی آدم نہیں بلکہ اور قسم کی مخلوق ہے یہ صرف جہالت کا خیال ہے کیونکہ قرآن میں ذوالعقول حیوان جو عقل اور فہم سے کام لیتے ہیں اور مورد ثواب یا عذاب ہو سکتے ہیں وہ دو ہی قسم کے بیان فرمائے ہیں (۱) ایک نوع انسان جو حضرت آدم کی اولاد ہیں ( ۲) دوسرے وہ جو جنّات ہیں انسانوں کے گروہ کا نام معشر الا نس رکھا ہے اور جنّاتکے گروہ کا نام معشر الجنّ رکھا ہے ۔ پس اگر یاجوج ماجوج جس کے لئے مسیح موعود کے زمانہ میں عذاب کا وعدہ ہے معشر الانس میں داخل ہیں یعنی انسان ہیں تو خواہ نخواہ ایک عجیب پیدائش ان کی طرف منسوب کرنا کہ ان کے کان اس قدر لمبے ہوں گے اور ہاتھ اس قدر لمبے ہوں گے اور اس کثرت سے وہ بچے دیں گے ان لوگوں کا کام ہے جن کی عقل محض سطحی اور بچوں کی مانند ہے اگر اس بارے میں کوئی حدیث صحیح ثابت ہو تو وہ محض استعارہ کے رنگ میں ہو گی جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ کی قومیں ان معنوں میں ضرور لمبے کان رکھتی ہیں کہ بذریعہ تار کے دور دور کی خبریں ان کے کانوں تک پہنچ جاتی ہیں اور خدا نے برّی اور بحری لڑائیوں میں اُن کے ہاتھ بھی نبرد آزمائی کی وجہ سے