مشرؔ ق سے مغرب کو اور مغرب سے مشرق بلا د کو آتی ہے اور اس پیشگوئی کے ساتھ قرآن شریف میں ایک اور بھی پیشگوئی ہے جو جسمانی اجتماع کے بعد رُوحانی اجتماع پر دلالت کرتی ہے اوروہ یہ ہے33۱؂ یعنی اُن آخری دنوں میں جو یا جوج ماجوج کا زمانہ ہوگا دُنیا کے لوگ مذہبی جھگڑوں اورلڑائیوں میں مشغول ہو جائیں گے اور ایک قوم دوسری قوم پر مذہبی رنگ میں ایسے حملے کرے گی جیسے ایک موج دریا دوسری موج پر پڑتی ہے ا وردوسری لڑائیاں بھی ہوں گی اور اس طرح پر دنیا میں بقیہ حاشیہ یہ آیت سورۃ کہف میں یاجوج ماجوج کے ذکر میں ہے ۔ کتب سابقہ میں جو بنی اسرائیلی نبیوں پر نازل ہوئی تھیں صاف اور صریح طور پر معلوم ہوتا ہے بلکہ نام لے کر بیان کیا ہے کہ یاجوج ماجوج سے مراد یورپ کی عیسائی قومیں ہیں اور یہ بیان ایسی صراحت سے ان کتابوں میں موجود ہے کہ کسی طرح اس سے انکار نہیں ہوسکتا ۔ اور یہ کہنا کہ وہ کتابیں محرف مبدّل ہیں ۔ ان کا بیان قابل اعتبار نہیں ایسی بات وہی کہے گا جو خودقرآن شریف سے بے خبر ہے ۔ کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ مومنوں کو قرآن شریف میں فرماتا ہے ۔ 3 ۲؂ یعنی فلاں فلاں باتیں اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم بے خبر ہو ۔ پس ظاہر ہے کہ اگر ہر ایک بات میں پہلی کتابوں کی گواہی ناجائز ہوتی تو خدا تعالیٰ کیوں مومنوں کو فرماتا کہ اگر تمہیں معلوم نہیں تو اہل کتاب سے پوچھ لو بلکہ اگر نبیوں کی کتابوں سے کچھ فائدہ اٹھانا حرام ہے تو اس صورت میں یہ بھی ناجائز ہوگا کہ ان کتابوں میں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بطور استدلال پیشگوئیاں پیش کریں ۔ حالانکہ خود صحابہ رضی اللہ عنہم اور بعد ان کے تابعین بھی ان پیشگوئیوں کو بطور حجت پیش کرتے رہے ہیں ۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کتب سابقہ کے بیان تین قسم کے ہیں ۔ (۱)ایک تو وہ باتیں ہیں جو واجب التصدیق ہیں ۔ جیسا کہ خدا کی توحید اور ملائک کا ذکر اور بہشت و دوزخ کے وجود کی نسبت بیان ۔ اگر ان کا انکار کریں تو ایمان جائے ۔ (۲)دوسری وہ باتیں ہیں جو رد کرنے کے لائق ہیں جیسا کہ وہ تمام امور جو قرآن شریف کے مخالف ہیں