سفرؔ کا مدار تمام اُونٹنیوں پر ہے اس لئے اُونٹوں کا ہی ذکر کیا یہ تو ہر ایک شخص جانتا ہے کہ مکہ معظمہ سے مدینہ منورّہ تک حاجیوں کے پہنچانے کے لئے تیرہ ۱۳۰۰سو برس سے صرف اونٹنیوں کی سواری چلی آتی ہے پس اس جگہ خدا تعالیٰ یہ خبر دیتا ہے کہ وہ زمانہ آتا ہے کہ وہ سواری موقوف کردی جائے گی اور بجائے اُس کے ایک نئی سواری ہوگی جو آرام اور جلدی کی ہوگی۔ اور یہ بات اس سے نکلتی ہے کہ جوبدل اختیار کیا جاتا ہے وہ مُبدّل منہ سے بہتر ہوتا ہے۔
دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ زمانہ آتا ہے کہ جبکہ بچھڑے ہوئے لوگ باہم ملا دئیے جائیں گے اور اس قدر باہمی ملاقاتوں کے لئے سہولتیں میسر آجائیں گی اور اس کثرت سے ان کی ملاقاتیں ہوں گی کہ گویا مختلف ملکوں کے لوگ ایک ہی ملک کے باشندے ہیں سو یہ پیشگوئی ہمارے اِس زمانہ میں پوری ہوگئی جس سے ایک عالمگیر انقلاب ظہور میں آیا گویا دنیا بد ل گئی کیونکہ دُخانی جہازوں اور ریلوں کے ذریعہ سے وہ روکیں جو پہاڑوں کی مانند حائل تھیں سب اُٹھ گئیں اور ایک دنیا
بقیہ حاشیہ
اس کا نتیجہ ہے اور ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اس زمانہ میں بعض آدمی بعض سے ملائے جائیں گے اور ظاہری تفرقہ قوموں کا دور ہو جائے گا اور چونکہ صحیح مسلم میں کھول کر بیان کیا گیا ہے کہ اونٹنیوں کے بیکار ہونے کا مسیح موعود کا زمانہ ہے اس لئے قرآن شریف کی آیت 3 ۱ جو حدیث یترک القلاص کے ہم معنے ہے بدیہی طور پر دلالت کرتی ہے کہ یہ واقعہ ریل جاری ہونے کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظہور میں آئے گا ۔ اسی لئے میں نے 3 کے یہی معنے کئے ہیں کہ وہ مسیح موعود کا زمانہ ہے کیونکہ حدیث نے اس آیت کی شرح کر دی ہے اور چونکہ ریل کے جاری ہونے پر ایک مدت گذر چکی ہے جو مسیح موعود کی علامت ہے اس لئے ایک مومن کو ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود ظاہر ہو چکا ہے اور جب کہ ایک واقعہ نے ممدوحہ بالا آیت اور حدیث کے معنے کھول دئیے ہیں تواب ظاہر شدہ معنوں کو قبول نہ کرنا صریح الحاد ااور بے ایمانی ہے ۔ سوچ کر دیکھو کہ جب مکہ اور مدینہ میں اونٹ چھوڑ کر ریل کی سواری شروع ہو جائے گی تو کیا وہ روز اس آیت اور حدیث کے مصداق نہ ہو گا ؟ ضرور ہوگا اور تمام دل اس دن بول اٹھیں گے کہ آج وہ پیشگوئی مکہ اور مدینہ کی راہ میں کھلے کھلے طور پر پوری ہوگئی ۔ ہائے افسوس ان نام کے مسلمانوں پر کہ جو نہیں چاہتے کہ (میرے بغض کی وجہ سے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی پیشگوئی پوری ہو ۔ منہ