اِس ؔ جگہ اس نکتہ کا ذکر کرنا بیجا نہ ہوگا کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ابتدائے آفرینش سے لے کر اخیر تک نوع انسان کے زمانہ کو چار مختلف حالتوں اور مختلف زمانوں پر تقسیم کیا ہے۔ (۱) پہلے اُس حالت اور اُس زمانہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب صرف ایک انسان معہ اپنے قلیل مقدار کنبہ کے دُنیا میں موجود تھا اور ایک وحدت قومی ان کو حاصل تھی اور ایک مذہب تھا۔ (۲) دوسری اُس حالت اور اُس زمانہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب وہ وحدت دور ہوکر تفریق پیدا ہوگئی اور انسان کی نسل مختلف قوموں اور مختلف مذہبوں کے رنگ میں ہوکر تمام دنیا میں پھیل گئی اور وہ دُنیا کے ایسے دور دور کونوں میں جابسی کہ ایک دوسری کے حالات سے بے خبر ہوگئی اور ایک قوم سے ہزاروں قومیں بن گئیں اور ایک مذہب سے ہزاروں مذہب نکل آئے۔ (۳) تیسری اُس حالت اور اُس زمانہ کا ذکر فرمایا ہے کہ جب پھر کچھ کچھ شناسائی ایک قوم کی دوسری قوم سے ہوئی اور بہت سی مشقّت سفر اُٹھاکر ملاقات کی راہ کُھل گئی اور مختلف قوموں کے پھر باہمی تعلقات پیدا ہونے لگے اور ایک قوم دوسری قوم کے مذہب کو اختیار کرنے لگی مگر بہت کم۔ (۴) چوتھے بطور پیشگوئی یہ بیان فرمایا ہے کہ ایک ایسا زمانہ بھی آتا ہے کہ جب سفر کرنے کے سامان سہل طور پر میسر آجائیں گے او ر اُونٹنیوں کی سواری کی حاجت نہیں رہے گی اور سفر میں بہت آرام اور سہولیت میسر آجائے گی اور ایک ایسی نئی سواری پیدا ہو جائے گی کہ ایک حصہ دُنیا کو دوسرے حصہ سے ملا دے گی اور ایک ملک کے لوگوں کو دوسرے ملک کے لوگوں سے اکٹھے کر دے گی جیسا کہ یہ د۲و آیتیں ایسی پیشگوئی پر مشتمل ہیں اور وہ یہ ہیں۔ 3 ۱؂ ۔ 3 ۲؂ یعنی وہ زمانہ آتا ہے کہ اُونٹنیاں بیکار کردی جائیں گی۔ جاننا چاہیئے کہ عرب کی تجارت اور حاشیہ۔ قیامت کے قرب اور مسیح موعود کے آنے کا وہ زمانہ ہے جبکہ اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی یہ آیت صحیح مسلم کی اس حدؔ یث کی مصدّق ہے جہاں لکھا ہے کہ و یترک القلاص فلا یسعٰی علیہا یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنیاں بیکار چھوڑ دی جائیں گی اوران پر کوئی سوار نہیں ہوگا ۔ یہ ریل گاڑی پیدا ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جب کوئی اعلیٰ سواری میسر آتی ہے تبھی ادنیٰ سواری کو چھوڑتے ہیں ۔ اور دوسری آیت گویا