محدؔ ود تھے دوسری قوم سے اُن کو کچھ تعلق اور واسطہ نہ تھا مگر سب کے بعد قرآن شریف آیا جو ایک عالمگیر کتاب ہے اور کسی خاص قوم کے لئے نہیں بلکہ تمام قوموں کے لئے ہے ایسا ہی قرآن شریف ایک ایسی اُمّت کے لئے آیاجو آہستہ آہستہ ایک ہی قوم بننا چاہتی تھی سو اب زمانہ کے لئے ایسے سامان میسر آگئے ہیں جو مختلف قوموں کو وحدت کارنگ بخشتے جاتے ہیں۔ باہمی ملاقات جو اصل جڑھ ایک قوم بننے کی ہے ایسی سہل ہوگئی ہے کہ برسوں کی راہ چند دنوں میں طے ہوسکتی ہے او ر پیغام رسانی کے لئے وہ سبیلیں پیدا ہوگئی ہیں کہ جو ایک برس میں بھی کسی دور دراز ملک کی خبر نہیں آسکتی تھی وہ اب ایک ساعت میں آسکتی ہے۔ زمانہ میں ایک ایسا انقلاب عظیم پیدا ہو رہا ہے اور تمدنی دریا کی دھار نے ایک ایسی طرف رُخ کرلیا ہے جس سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ اب خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ ہے کہ تمام قوموں کو جو دُنیا میں پھیلی ہوئی ہیں ایک قوم بنادے اور ہزارہا برسوں کے بچھڑے ہوؤں کو پھر باہم ملادے اور یہ خبر قرآن شریف میں موجود ہے اور قرآن شریف نے ہی کھلے طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ دنیا کی تمام قوموں کے لئے آیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔3 33۱؂ یعنی تمام لوگوں کو کہہ دے کہ میں تم سب کے لئے رسول ہوکر آیا ہوں۔ اور پھر فرماتا ہے۔ 3 ۲؂ یعنی میں نے تمام عالموں کے لئے تجھے رحمت کرکے بھیجا ہے۔ اور پھر فرماتا ہے۔33۳؂ یعنی ہم نے اِس لئے بھیجا ہے کہ تمام دُنیا کو ڈرا وے۔ لیکن ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے دُنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا یہاں تک کہ جس نبی کو عیسائیوں نے خدا قرار دیا اُس کے منہ سے بھی یہی نکلا کہ ’’میں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا‘‘ اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعویٰ تبلیغ عام کا عین موقعہ پر ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے