وقت ؔ تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے بعد نزول اس آیت کے کہ 33 ۱؂ دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف دعوتِ اسلام کے خط لکھے تھے کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوتِ دین کے ہرگز خط نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے یہ عام دعوت کی تحریک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے ہی شروع ہوئی اور مسیح موعود کے زمانہ میں اور اُس کے ہاتھ سے کمال تک پہنچی۔ جو کچھ قرآن شریف نے توحید کا تخم بلاد عرب۔ فارس۔ مصر۔ شام۔ ہند۔ چین۔ افغانستان کشمیر وغیرہ بلاد میں بودیا ہے اور اکثر بلاد سے بُت پرستی اور دیگر اقسام کی مخلوق پرستی کا تخم جڑھ سے اُکھاڑ دیا ہے یہ ایک ایسی کارروائی ہے کہ اس کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں پائی جاتی مگر بمقابل اس کے جب ہم وید کی طرف دیکھتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ وہ آریہ ورت کی بھی اصلاح نہیں کرسکا اور اس ملک کے انسانوں پر نیک اثر ڈالنے میں نہایت نکمّا ثابت ہوا ہے اور نہ صرف ہمارے اس زمانہ میں بلکہ اس ملک کی ایک لمبی تاریخ پر نظر ڈال کر ظاہر ہوتا ہے کہ کبھی اس ملک میں وید کے ذریعہ سے توحید نہیں پھیلی بلکہ بجائے اُس کے نفع کے اُس کا ضررقریباً تمام آرین لوگوں کو ہلاک کرتا رہا ہے اور جب وید کے پیرو لوگوں کے عقائد اور اعمال پر نظر ڈالی جاوے تو نہایت درد اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ویدایک گمراہ کرنے والی کتاب ہے۔ کون اس واقعہ سے انکار کرسکتا ہے کہ جس قدر مخلوق پرست فرقے ہندوؤں کے اِس ملک میں پائے جاتے ہیں اور یا جس قدر نہایت گندے اور ناپاک مذہب اس ملک میں رائج ہوگئے ہیں جیسے شاکت مت وغیرہ وہ سب وید ہی کے ذریعہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اگر وید میں یہ لیاقت ہوتی کہ وہ کھلے کھلے طور پر بیان کرتا کہ سورج چاند اور پانی اور آگ وغیرہ کی پرستش مت کرو اور بدکاری اور زناکاری