جو اؔ ن کو ایک قوم کہا جائے اِس لئے اُن کے لئے صرف ایک کتاب کافی تھی پھر بعد اس کے جب دُنیا میں انسان پھیل گئے اور ہر ایک حصہ زمین کے باشندوں کا ایک قوم بن گئی اور بباعث دور دراز مسافتوں کے ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے بالکل بے خبر ہوگئی ایسے زمانوں میں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نے تقاضا فرمایا کہ ہر ایک قوم کے لئے جُداجُدا رسول اور الہامی کتابیں دی جائیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اور پھر جب نوع انسان نے دُنیا کی آبادی میں ترقی کی اور ملاقات کے لئے راہ کھل گئی اور ایک ملک کے لوگوں کو دوسرے ملک کے لوگوں کے ساتھ ملاقات کرنے کے لئے سامان میسرّ آگئے اور اس بات کا علم ہوگیا کہ فلاں فلاں حصہ زمین پر نوع انسان رہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ ان سب کو پھر دوبارہ ایک قوم کی طرح بنا دیا جائے اور بعد تفرقہ کے پھر ان کو جمع کیا جاوے*۔ تب خدا نے تمام ملکوں کے لئے ایک کتاب بھیجی اور اس کتاب میں حکم فرمایا کہ جس جس زمانہ میں یہ کتاب مختلف ممالک میں پہنچے اُن کا فرض ہوگا کہ اُن کو قبول کرلیں اور اُس پر ایمان لاویں اور وہ کتاب قرآن شریف ہے جو تمام ملکوں کا باہمی رشتہ قائم کرنے کے لئے آئی ہے۔ قرآن سے پہلی سب کتابیں مختص القوم کہلاتی تھیں یعنی صرف ایک قوم کے لئے ہی آتی تھیں۔ چنانچہ شامی۔ فارسی۔ ہندی۔ چینی۔ مصری۔ رومی۔ یہ سب قومیں تھیں جن کے لئے جو کتابیں یا رسول آئے وہ صرف اپنی قوم تک *حاشیہ۔ ایک قوم بنانے کا ذکر قرآن شریف کی سورۃ کہف میں موجو د ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے 3 ۱؂ یعنی ہم آخری زمانہ میں ہر ایک قوم کو آزادی دیں گے تا اپنے مذہب کی خوبی دوسری قوم کے سامنے پیش کرے اور دوسری قوم کے مذہبی عقائد اور تعلیم پر حملہ کرے اور ایک مدت تک ایسا ہوتا رہے گا پھر قرنامیں ایک آواز پھونک دی جائے گی تب ہم تمام قوموں کو ایک قوم بنادیں گے اور ایک ہی مذہب پر جمع کر دیں گے ۔ منہ