بھلاؔ عقل اس بات کو قبول کرسکتی ہے کہ جو لوگ نہایت قریب زمانہ میں مکتی خانہ سے باہر نکلتے ہیں اُن کے حافظہ اور علوم اور معارف پر ایسے پتھر پڑجائیں کہ جو لوگ کروڑہا برس بعد آتے ہیں اُن کے ساتھ برابر ہو جائیں؟ غرض ہم یہ تو مانتے ہیں کہ جو لوگ مکتی کے زمانہ سے کروڑہا برس بعد میں آتے ہیں وہ بوجہ زمانہ دراز کی غفلت کے وید ودّیا کو یاد نہیں رکھتے اور نہ سنسکرت کو یاد رکھتے ہیں سب کچھ بھول جاتے ہیں اوریہ بات بالکل سچ ہے کہ ایسے بچوں کو اگر اُن کے پیدا ہونے کے بعد زبان نہ سکھائی جائے تو وہ بالکل گنگے رہ جاتے ہیں مگر کیا وہ لوگ بھی گنگے ہی رہ سکتے ہیں جو تازہ بتازہ مکتی خانہ سے باہر آتے ہیں اُن کے لئے تو ضرور ہے کہ بغیر حاجت الہام کے سنسکرت کی زبان یاد ہو جو مکتی خانہ میں باہم بولتے تھے اور نیز ضروری ہے کہ سب کو ویداَزبَر ہو کیونکہ وہ مکتی خانہ میں وید ہی تو دن رات پڑھتے رہتے تھے اور کیا کام تھا ؟
پھر ہم اصل مدعا کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ یہ بات فی الواقع صحیح اور درست ہے کہ ابتدائے آفرینش میں بھی ایک الہامی کتاب نوع انسان کو ملی تھی مگر وہ وید ہرگز نہیں ہے اور موجودہ وید کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا اُس پاک ذات کی توہین ہے۔
اِس جگہ اگر کوئی یہ سوال کرے کہ ابتدائے زمانہ میں صرف ایک الہامی کتاب* انسانوں کو کیوں دی گئی ہر ایک قوم کے لئے جُدا جُدا کتابیں کیوں نہ دی گئیں اِس کا جواب یہ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں انسان تھوڑے تھے اور اس تعداد سے بھی کمتر تھے
*حاشیہ۔ یاد رہے کہ الہام یا الہامی کتاب کا لفظ جو بار بار اس رسالہ یا دوسری کتابوں میں ہم نے لکھا ہے صرف عام فہم کرنے کے لئے یہ لفظ لکھا گیاہے ورنہ الہام کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ جو کچھ دل میں ڈالاجاوے نیک ہو یا بد وہ الہام ہے اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے الفاظ ہوں مگر اس جگہ ہماری مراد الہام سے وحی الٰہی ہے اور وحی اس کو کہتے ہیں کہ خدا کا کلام مع الفاظ کسی پر نازل ہو ۔ اس وحی سے آریہ سماج والے بالکل بے خبر ہیں ۔ منہ