جاتاؔ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ بجز خدا کے کسی نے افترا کے طور پر کتاب بنائی ہو کیونکہ اُس زمانہ میں بولی سکھلانے والا محض خدا تھا اُس کے سوا کوئی نہ تھا سو اُس نے ویدک سنسکرت سکھلائی اور ظاہر ہے کہ بغیر سکھلانے کے کوئی بولی یاد نہیں آسکتی۔ اگر کسی نوزاد بچہ کو کچھ بھی نہ سکھلایا جائے تو وہ گُنگا رہ جاتا ہے۔ یہ عجیب دلیل ہے کہ جوآریہ مضمون سنانے والے نے پیش کی ہے کہ پہلے تو وہ لوگوں کو اِس بات کے لئے مجبور کرتا ہے کہ تم بلا دلیل مان لو کہ وید ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے اور پھر اپنے مذکورہ بالا بیان کے ساتھ وید کو الہامی کتاب ٹھہراتا ہے۔ سو اس کی یہ دلیل محض اِس طور کی ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ اول تم بلا دلیل اس بات کو مان لو کہ پنڈت دیانند کے جسم پر پرندوں کی طرح پَر بھی تھے جو عقاب کے پَروں کی طرح نہایت قوی اور مضبوط تھے اور پھر ہم یہ بات ثابت کردیں گے کہ آریہ ورت میں جس قدر اُس نے دورہ کیا اُس تمام دورہ میں وہ ریل وغیرہ کا محتاج نہ تھا بلکہپرواز کرکے ایک شہر سے دوسرے شہر تک جاتا تھا۔ افسوس یہ لوگ نہیں جانتے کہ ایک بلا دلیل دعویٰ پیش کرکے پھر اُسی دعویٰ کی بناء پر کوئی بکواس کرکے اُس کا نام دلیل رکھنا عقلمندوں کا کام نہیں سو یاد رہے کہ پہلے تو یہی بارثبوت آریہ صاحبوں کی گردن پرہے کہ وہ وید کو ابتدائے آفرینش کی کتاب ثابت کریں اور پھر بعد اس کے کوئی بات کریں۔ اور پھر یہ کہنا کہ بغیر سکھلانے کے کوئی بولی یاد نہیں آسکتی۔ یہ امر بھی بموجب اصول آریہ کے پہلے زمانہ کے نیا جنم لینے والے لوگوں پر صادق نہیں آسکتا کیونکہ وہ اپنے مکتی کے زمانہ سے قریب العہد ہوتے ہیں اور تازہ بتازہ مکتی خانہ سے باہر آتے ہیں اور چونکہ وہ ایسے گھر سے دُنیا کی طرف آتے ہیں جس میں بقول آریہ سماج داخل ہونے والے پورے طور پر وید کی ہدایتوں کے پابند ہوتے ہیں اور وید ان کو کنٹھ ہوتا ہے اس لئے اُن کی نسبت یہ گمان نہیں ہوسکتا کہ وہ اُن بچوں کی طرح ہوں جو کئی لاکھ برس گذرنے کے بعد پیدا ہوتے ہیں