الہاؔ می کتا ب نازل فرماتا۔ مگر بعد میں ایک ایسے زمانہ میں کہ جب ایک طوفان گناہوں کا برپا ہوا یہ طاقت اُس کی مسلوب ہوگئی اور اُس کو قدرت نہ رہی کہ انسانوں کی موجودہ حالت کے موافق اُن کی اصلاح کے لئے کوئی کتاب بھیجتا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ابتدائے زمانہ میں تو کسی الہامی کتاب کی چنداں ضرورت نہیں مگر جب کہ زمانہ پُر فساد اور گمراہی غالب آگئی ہو اور بدعقیدگی اور بدکاری کے جذام سے روحانیت کا خون بگڑ گیا ہو تو اس صورت میں الہامی کتاب کی اشد ضرورت پیش آئے گی۔۔۔ لیکن جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں نوع انسان ابتدائے آفرینش میں اصلاح کی ایسی محتاج نہیں جیسا کہ اس زمانہ میں محتاج ہے جس میں ایک طوفان بدعقیدگی اور بدکاری کا برپا ہو خاص کر جب کہ بقول آریوں کے ابتدائے آفرینش میں مکتی پانے کا زمانہ قریب تھا اور بوجہ قرب زمانہ مکتی کے پہلی تمام ہدایتیں اور گیان اور معرفت کی باتیں خوب یاد تھیں اور ابھی دل خراب نہیں ہوئے تھے اور عملی حالت بگڑی نہیں تھی تو ایسے پاک دلوں کو جو ابھی کسی بدعقیدگی اور بدعملی میں مبتلا نہیں ہوئے تھے کسی مصلح اور کسی الہامی کتاب کی چنداں ضرورت نہ تھی اور یہ تو ہم مانتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش میں بھی اُس وقت کے انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ نے کوئی کتاب دی تھی مگر یہ نہیں مانتے کہ وہ کتاب وید ہی ہے اور نہ وید نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے۔ بلکہ رِگ وید جابجا اس مضمون سے بھرا پڑا ہے کہ وید سے پہلے کئی راستباز گذر چکے ہیں اور وید میں جابجا ایسی چیزوں کا ذکر ہے جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وید اُس زمانہ کی کتاب ہے جب کہ دنیا ہر ایک نیک و بد سے خوب آباد ہوچکی تھی اور اہل دُنیا کے تمام ضروری اسباب پیدا ہوچکے تھے اور ہم اس دلیل کو بھی نہیں مانتے کہ جو وید کے الہامی ہونے پر اِس طور سے پیش کی جاتی ہے کہ اوّل صرف دعوے کے طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ وید ایک ایسی کتاب ہے کہ جو ابتدائے آفرینش میں انسانوں کو دی گئی اور پھر بعد اس کے یہ کہا