اورؔ وہ انواع اقسام کی گمراہی جو رفتہ رفتہ پیچھے سے لاحق حال ہو جاتی ہے اور دلوں پر مَیل کی طرح جم کرجامہ ناپاک کی طرح کردیتی ہے اُس وقت موجود نہیں ہوتی بلکہ دل سفید کپڑے کی طرح ہوتے ہیں مگر بعد میں رفتہ رفتہ طرح طرح کے بُرے کام اور انواع اقسام کے گناہ پیدا ہوجاتے ہیںیہاں تک کہ کثرت گناہوں کے سبب سے لوگ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتے ہیں اور بُری عادتیں اُن کے دلوں میں جم جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ خراب عقیدوں اور خراب عادتوں کو اپنا ایک مذہب بنا لیتے ہیں اور پھر اُن باطل طریقوں کی حمایت کے لئے ان کے دلوں میں تعصّب اور حمیّت پیدا ہو جاتی ہے اور ان بدعقیدوں اور بدرسوم کا چھوڑنا اس لئے بھی اُن پر مشکل ہو جاتا ہے کہ قومی تعلقات اِس سے مانع ہوجاتے ہیں اور باہمی رشتہ ناطہ کی بھاری زنجیریں اس بات سے روکتی ہیں کہ قومی مذہب کو ترک کیاجاوے۔ اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایسے وقت میں جو کوئی رسول خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے گا۔ تا ایسے بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح کرے تو کس قدر مشکلات کا اُس کو سامنا کرنا پڑے گا اور کس قدر ضروری ہوگا کہ ایسے پُر آشوب اور پُر فساد زمانہ میں خدا تعالیٰ نوعِ انسان پر رحم فرماکر اُن کی اصلاح کے لئے کوئی رسول بھیجے۔ کیا ہم گمان کرسکتے ہیں کہ ابتداءِ آفرینش کے زمانہ میں جب کہ یہ تمام مفاسد اور نہایت گندے عقیدے اور گندے گناہ دنیا میں موجود نہ تھے تب تو خدا تعالیٰ نے نوع انسان پر رحم کرکے کوئی الہامی کتاب اُن کو عنایت فرمائی لیکن جب زمین ناپاکی سے بھر گئی اور وہ پہلی کتاب اصلاح نہ کرسکی بلکہ صدہا بد عقیدے اس کی غلط فہمی سے پیدا ہوگئے اور نیز اُس کی تعلیم سے بہت سے حصے دُنیا کے بے خبر رہے اور انہوں نے بے خبری کی حالت میں جو کچھ عقیدہ اور عمل چاہا اختیار کیا اور ہر ایک بُرے کام سے حصہ لیا۔ ایسے زمانہ میں کوئی الہامی کتاب خدا نے نازل نہ کی اور کیا ہم یہ خیال کرسکتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش کے زمانہ میں تو خدا تعالیٰ کو یہ طاقت اور قدرت حاصل تھی کہ لوگوں کو اپنے احکام پر قائم ہونے کے لئے کوئی