پیاسؔ کے وقت پانی عطا کرتاہے اور بھوک کے وقت طرح طرح کی غذائیں عنایت کرتا ہے اِسی طرح خدا روحانی خواہشوں کا بھی پورا کرنے والا ہے اور وہ الہام ہے یہ کامل دلیل نہیں ہے اور اگر یہ کامل ہے تو تم جسمانی اور روحانی قانون قدرت ہمیں مطابق کرکے دکھاؤ جن کے واقعات میں ایک ذرہ تفاوت نہ ہو۔ تم دیکھتے ہو کہ اس زمانہ میں تمہارے جسم کے لئے غذا اور پانی دونوں موجود ہیں یہ نہیں کہ فقط کسی پہلے زمانہ میں تھیں اور اب نہیں ہیں مگر جب الہام اوروحی کا ذکر آتا ہے تو پھر تم کسی ایسے پہلے زمانہ کا حوالہ دیتے ہو جس پر کروڑہا برس گذر چکے ہیں مگر موجود کچھ نہیں دکھلا سکتے۔ پھر خدا کا جسمانی اور رُوحانی قانون قدرت باہم مطابق کیونکر ہوا۔ ذرا ٹھہر کر سوچو یونہی جلدی سے جواب مت دو۔ تم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ جسمانی خواہشوں کے سامان تو تمہار ے ہاتھوں میں موجود ہیں مگر رُوحانی خواہشوں کے سامان تمہارے ہاتھوں میں موجود نہیں بلکہ صرف قصے تمہارے ہاتھوں میں ہیں جو بودے اور باسی ہوچکے ہیں۔ تم جانتے ہو کہ اس زمانہ تک تمہارے جسمانی چشمے بند نہیں ہوئے جن کا تم پانی پی کر پیاس کی جلن اور سوزش کو دُور کرتے ہو اور نہ جسمانی کھیتوں کی زمین ناقابلِ زراعت ہوگئی ہے جن کے اناج سے تم دو وقت پیٹ بھرتے ہو۔ مگر وہ روحانی چشمے اب کہاں ہیں جو الہام الٰہی کا تازہ پانی پلاکر پیاس کی سوزش کو دور کرتے تھے اور اب وہ رُوحانی اناج بھی تمہارے پاس نہیں ہے جس کو کھاکر تمہاری روح زندہ رہ سکتی تھی۔ اب تم گویا ایک جنگل میں ہو جس میں نہ اناج ہے نہ پانی ہے۔ تم سوچ کر دیکھ لو کہ کیا صرف اناج کے نام سے تمہارا پیٹ بھر سکتا ہے یا صرف پانی کے خیال سے تمہاری پیاس کی سوزش دور ہوسکتی ہے ہم نے قبول کیا کہ تمہارے رشی روحانی اناج کھاتے تھے اور روحانی پانی پیتے تھے۔ مگر تم تو اس سے محروم ہو اور اب تو تمہاری وہ مثال ہے کہ کسی نے کسی شخص سے پوچھا تھا کہ کیا تو نے کبھی کنک کی روٹی کھائی ہے تو اُس نے جواب دیا کہ میں نے تو کبھی نہیں کھائی مگر میرے دادا صاحب بات کیا کرتے تھے کہ انہوں نے ایک