اسؔ کی خواہشوں کا سامان دیا ایسا ہی رُوح کو بھی اُس کی خواہشوں کا سامان دیا تا جسمانی اور رُوحانی نظام دونوں باہم مطابق ہوں۔
جن کو رُوحانی حِسدی گئی ہے وہ اِس بات کومحسوس کرتے ہیں کہ رُوح اپنی تکمیل کے لئے ایک روحانی غذا اور پانی کی محتاج ہے جس سے روحانی زندگی قائم رہ سکتی ہے۔ رُوحانی زندگی کیا چیز ہے؟ وہ اپنے محبوب حقیقی کی محبت اور اُس سے قطع تعلق ہو جانے کا خوف ہے اور محبت سے مُراد وہ حالت ہے کہ بکلی دِل اُسی کی طرف کھینچا جائے اور اُس کے مقابل پر کوئی دُوسرا باقی نہ رہے۔ اور روحانی خوف سے یہ مراد ہے کہ قطع تعلق کے اندیشہ سے گناہ کا مادہ جل جائے اورروح میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو جائے اور دنیا میں کوئی ایسی انسانی رُوح نہیں جو روحانی زندگی کی طالب نہیں۔ ہاں جو لوگ محض دنیا کے کیڑے ہیں ان کی رُوح کی بصارت قریباً مردار پڑجاتی ہے اوروہ خدا سے قطع تعلق کر لیتے ہیں اور خدا سے نہیں ڈرتے اورصرف دُنیا کو اپنی اصلی غرض سمجھنے لگتے ہیں مگر تاہم کسی خوفناک نظارہ کے وقت جیسا کہ سخت زلزلہ یا کسی خطرناک بیماری کی وجہ سے ایک بجلی کی طرح اُس مالک حقیقی کی ہیبت کی چمک اُن کے سامنے بھی آجاتی ہے اور غافل ہو جاتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ فقط یہ کہنا کہ جس خدا نے جسم کی حاجتوں کے موافق اس کو سامان دئے ہیں ایسا ہی رُوح کو اس کی حاجتوں کے موافق سامان دئیے ہوں گے جیسا کہ مضمون پڑھنے والے آریہ نے بیان کیا یہ وجود الہام پر کامل دلیل نہیں ہے کیونکہ مخالف کہہ سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ انسان کو ایک چیز کی ضرورت تو ہو مگر وہ چیز اُس کو حاصل نہ ہو۔ پس سچ تو یہ ہے کہ یہ دلیل جو لمّیہے پوری نہیں ہوسکتی جب تک اس کے ساتھ انّی دلیل نہ ہو یعنی جب تک تازہ نمونہ الہام کا نہ دیکھا جائے بلا شبہ ضرورت کا محسوس کرنا اور چیز ہے اور پھر اس ضرور ت کو حاصل بھی کر لینا یہ اور امر ہے پس آریوں کے مضمون پڑھنے والے نے جو ضرورت الہام کے لئے صرف یہ چند فقرے بیان کئے کہ جس طرح خدا انسان کی جسمانی خواہشوں کو پورا کرتا ہے مثلاً