صؔ کو کھاتے دیکھا تھا۔
اے غافلو تمہیں ان قصوں سے کیا فائدہ کہ وید کے رشیوں کو الہام ہوتا تھا اب تمہارے لئے وہ سب قصے ہیں اور تمہاری یہ حماقت ہے کہ ضرورت الہام کے مطالبہ کے وقت صرف قصے پیش کر دیتے ہو۔ یاد رکھو کہ الہام کا ثبوت طلب کرنے کے وقت صرف یہ بات پیش کرنا کہ ویدوں کے رشیوں کو الہام ہوتا تھا یہ الہام کے وجود کی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک دوسرا دعویٰ ہے۔ کسی کو کیا خبر کہ اُن کو الہام ہوتا تھا یا نہ ہوتا تھا۔ صاحبو ! جو کچھ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں اُس کے سمجھنے کے لئے کچھ زیادہ عقل کی ضرورت نہیں بلکہ میں آپ کی بات سے ہی آپ کو ملزم کرتا ہوں اور وہ یہ کہ آپ کا یہ اصول ہے کہ الہام چاروں ویدوں سے ہی خاص تھا اور بقول آپ کے الہام کا زمانہ آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے اور اسی وجہ سے آپ لوگ خدا تعالیٰ کے مقدس نبیوں کو مفتری قرار دیتے ہیں۔ مگر اب آپ اپنے اس اصول کی پروا نہ رکھ کر بقول شخصے کہ دروغ گو را حافظہ نبا شد خدا کے روحانی انتظام کو جسمانی انتظام کے مطابق قرار دیتے ہیں اورہم قبول کرتے ہیں کہ یہ آپ کا قول سچ ہے کیونکہ قانون قدرت تطابق ہی چاہتا ہے مگر کیا یہ سچ ہے کہ جیسا کہ یہ تمہاری جسمانی خواہشیں بھوک اور پیاس کی جو تمہیں ہر روز لگتی ہیں موجودہ اناج اور پانی سے پوری کی جاتی ہیں ایسا ہی رُوحانی خواہشیں بھی رُوحانی موجودہ غذا اور پانی سے پوری ہو رہی ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ آپ لوگ خدا کے الہام کو ہر گزثابت نہیں کرسکتے جسمانی حاجتوں کے وقت تو ہمیں آپ پانی اور اناج دکھا دیتے ہیں مگر رُوحانی حاجتوں کے وقت آپ صرف قصے پیش کرتے ہیں کیا صرف قصوں کو کوئی کھاوے یا پیوے۔ مگر ہم صرف قصیّ پیش نہیں کرتے بلکہ آپ کو تازہ بتازہ الہام دکھلا دیتے ہیں۔ وہ خدا کا الہام ہی تھا جس نے لیکھرام کے قتل ہونے کی پانچ برس پہلے خبردی تھی اوروہ خدا کا الہام ہی تھا جس نے