ہیںؔ کہ دلیل سے مدلول کا پتہ لگالیں جیسا کہ ہم نے ایک جگہ دُھواں دیکھا تو اس سے ہم نے آگ کا پتہ لگا لیا۔ اور دوسری دلیل کی قسم اِنّی ہے اور اِنّی اُس کو کہتے ہیں کہ مدلول سے ہم دلیل کی طرف انتقال کریں جیسا کہ ہم نے ایک شخص کو شدید تَپ میں مبتلا پایا تو ہمیں یقین ہوا کہ اس میں تیز صفر ا موجود ہے جس سے تَپ چڑھ گیا۔ سو اس جگہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ دونوں قسم کی دلیلیں پیش کریں گے۔
سو پہلے ہم لِمّی دلیل ضرورت الہام کے لئے پیش کرتے ہیں اوروہ یہ ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ انسان کے جسم کا جسمانی اور رُوحانی نظام ایک ہی قانون قدرت کے ماتحت ہے پس اگر ہم انسان کے جسمانی حالات پر نظر ڈال کر دیکھیں تو ظاہر ہوگا کہ خداوند کریم نے جس قدر انسان کے جسم کو خواہشیں لگادی ہیں ان کے پورا کرنے کے لئے بھی سامان مہیا کئے ہیں چنانچہ انسان کا جسم بباعث بھوک کے اناج کا محتاج تھا سو اس کے لئے طرح طرح کی غذائیں پیدا کی ہیں۔ ایسا ہی انسان بباعث پیاس کے پانی کا محتاج تھا سو اس کے لئے کوئیں اورچشمے اور نہریں پیدا کردئیے ہیں۔ اسی طرح انسان اپنی بصارت سے کام لینے کے لئے آفتاب یا کسی اور روشنی کا محتاج تھا سو اس کے لئے خدا نے آسمان پر سورج اور زمین پر دُوسری اقسام کی روشنی پیدا کردی ہے۔ اور انسان اس ضرورت کے لئے کہ سانس لے اور نیز اس ضرورت کے لئے کہ کسی دوسرے کی آواز کو سن سکے ہوا کا محتاج تھا۔ سو اس کے لئے خدا نے ہوا پیدا کردی ہے۔ ایسا ہی انسان بقائے نسل کے لئے اپنے جوڑے کا محتاج تھا سوخدا نے مرد کے لئے عورت اور عورت کے لئے مرد پیدا کردیا ہے غرض خدا تعالیٰ نے جو جو خواہشیں انسانی جسم کو لگادی ہیں اُن کے لئے تمام سامان بھی پیدا کردیا ہے۔ پس اب سوچنا چاہیئے کہ جب کہ انسانی جسم کو باوجود اس کے فانی ہونے کے تمام اس کی خواہشوں کا سامان دیا گیا ہے تو انسان کی رُوح کو جو دائمی اور ابدی محبت اور معرفت اور عبادت کے لئے پیدا کی گئی ہے کس قدر اس کی پاک خواہشوں کے سامان دئیے گئے ہوں گے۔ سو وہی سامان خدا کی وحی ہے اور اُس کے تازہ نشان ہیں جو ناقص العلم انسان کو یقینِ تام تک پہنچاتے ہیں۔ خدا نے جیسا کہ جسم کو