ایسے ؔ حجرہ کی کھڑکی کھول دی جس کو اُس نے بند کردیا تھا تو معًاخدا تعالیٰ اُس گھر میں روشنی داخل کرے گا۔ پس قرآن شریف کی رُو سے خدا کے غضب کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ انسان کی طرح اپنی حالت میں ایک مکروہ تغیر پیدا کرکے خشمناک ہو جاتا ہے کیونکہ انسان توغضب کے وقت میں ایک رنج میں پڑجاتا ہے اور اپنی حالت میں ایک دُکھ محسوس کرتا ہے اور اس کا سرور جاتا رہتا ہے مگر خدا ہمیشہ سرور میں ہے اُس کی ذات پر کوئی رنج نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے غضب کے یہ معنی ہیں کہ وہ چونکہ پاک اور قدوس ہے اس لئے نہیں چاہتا کہ لوگ اس کے بندے ہوکر ناپاکی کی راہیں اختیار کریں اور تقاضا فرماتا ہے کہ ناپاکی کو درمیان سے اُٹھا دیا جاوے پس جو شخص ناپاکی پر اصرار کرتا ہے آخر کار وہ خدا ئے قدوس اپنے فیض کو جو مدار حیات اور راحت اور آرام ہے اس سے منقطع کر لیتا ہے اور یہی حالت اُس نافرمان کے لئے موجب عذاب ہو جاتی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک باغ ہے جو ایک نہر کے پانی سے سرسبز اور شاداب ہوتا تھا اور جب باغ والوں نے نہر کے مالک کی اطاعت چھوڑ دی تو مالک نہر نے اس باغ کو اپنے نہر کے پانی سے محروم کردیا اور بند لگا دیا تب باغ خشک ہوگیا۔ اب واضح ہو کہ ضرورت الہام کو بیان کرنا اُس قوم کاکام نہیں ہے جو الہام کو کسی گذشتہ زمانہ تک محدود سمجھ بیٹھی ہے۔ کیونکہ جو چیز واقعی طور پر ضروری ہے اُس کی ہمیشہ اور ہر وقت ہمیں ضرورت ہے۔ اور اگر کہیں کہ پہلے زمانوں میں الہام کی ضرورت تھی اور اب نہیں ہے تو گویا ہم خود ضرورت الہام کے منکر ہیں۔ مثلاً ہمیں زندگی کے لئے سانس لینے کی ضرورت ہے پس نہیں کہہ سکتے کہ کل وہ ضرورت تھی مگر آج نہیں ہے اور آج ہم کسی دوسرے کو سانس لیتے دیکھ کر جی سکیں گے۔ بلکہ الہام ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جو خدا کو نزدیک کرکے ہمیں دکھلا دیتا ہے اور ہمارا رشتہ خدا سے محکم کر دیتا ہے اور ہم جیسے پہلے آسمان سے آئے تھے الہام دوبارہ ہمیں آسمان کی طرف لے جاتا ہے۔ اب جاننا چاہیئے کہ دلیل دو قسم کی ہوتی ہے ایک لِمّی ،اور لِمّی دلیل اُس کو کہتے