وید ودّیا کے نمونے یہ ہیں جو ہم نے بیان کئے ہیں۔ اور اگر کوئی آریہ صاحب اپنی خوش عقیدگی کی وجہ سے زیادہ کے مشتاق ہوں گے تو ہم اور بھی لکھیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔
آریوں کی حالت پر بڑا افسوس ہے کہ وہ محض اپنی نادانی اور تعصب کی وجہ سے قرآن شریف پر جو سرچشمۂ معارف اور حقائق ہے اعتراض کرتے ہیں اور اپنے وید کی خبر نہیں لیتے کہ کس تاریکی میں پڑا ہوا ہے اور اس کی باتیں ایسی خلاف عقل اور بیہودہ ہیں جو یقیناًاس سے بڑھ کر کسی قوم کی کتاب میں ایسی باتیں نہیں ہوں گی۔ وید نے پرمیشر کو سراسر غضب اورکینہ وری کا پتلا ٹھہرا دیا ہے جو کسی حالت میں سزا کے ارادہ کو نہیں چھوڑتا لیکن قرآن شریف نے خدا تعالیٰ کے غضب کو اس طور سے بیان نہیں کیا جو وید بیان کرتا ہے بلکہ وہ غضب ایک رُوحانی فلسفہ اپنے اندر رکھتا ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ سزا دہی کی کیفیت کے بارہ میں ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے 3 ۱ یعنی دوزخ کیا چیز ہے دوزخ وہ آگ ہے جو دِلوں پر بھڑکائی جاتی ہے۔ یعنی انسان جب فاسد خیال اپنے دل میں پیدا کرتا ہے اور وہ ایسا خیال ہوتا ہے کہ جس کمال کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے وہ اس کے مخالف ہوتا ہے۔ تو جیسا کہ ایک بھوکا یا پیاسا بوجہ نہ ملنے غذا اور پانی کے آخر مر جاتا ہے۔ ایسا ہی وہ شخص بھی جو فساد میں مشغول رہا اور خدا تعالیٰ کی محبت اور اطاعت کی غذا اور پانی کو نہ پایا وہ بھی مر جاتا ہے۔ پس بموجب تعلیم قرآن شریف کے بندہ ہلاکت کا سامان اپنے لئے آپ تیار کرتا ہے خدا اُس پر کوئی جبر نہیں کرتا اس کی ایسی مثال ہے کہ جیسے کوئی اپنے حجرہ کے تمام دروازے بند کردے اور روشنی داخل ہونے کے لئے کوئی کھڑکی کھلی نہ رکھے تو اس میں شک نہیں کہ اس کے حجرہ کے اندر اندھیرا ہو جائے گا۔ سو کھڑکیوں کا بند کرنا تو اُس شخص کا فعل ہے مگر اندھیرا کر دینا یہ خدا تعالیٰ کا فعل اُس کے قانون قدرت کے موافق ہے۔ پس اِسی طرح جب کوئی شخص خرابی اور گناہ کا کام کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اپنے قانون قدرت کی رُو سے اُس کے اِس فعل کے بعد کوئی اپنا فعل ظاہر کر دیتا ہے جو اس کی سزا ہو جاتا ہے لیکن باایں ہمہ توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا مثلاً جب ایک شخص نے اپنے