آبادؔ ی ہے۔ ایسی صورت میں جب کہ وہ لوگ جو ایک مقررہ مدّت کے بعد مکتی خانہ سے نکالے جاتے ہیں اور شمار میں زمین سے ہزارہا حصہ زیادہ ہوتے ہیں اُن کی اس زمین پرکیونکر گنجائش ہوسکتی ہے کیونکہ جو لوگ مکتی خانہ سے باہر نکالے جاتے ہیں وہ صرف ایک صدی کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ بموجب اصول قرار دادہ آریہ صاحبوں کے کروڑہا صدیوں کے آدمی ہوتے ہیں۔ پس وہ زمین جس کی سطح پر صرف ایک صدی کے آدمی بمشکل آباد ہیں اس پر کروڑہا صدیوں کے آدمی کیونکر سما سکتے ہیں۔ کیا کوئی آریہ صاحب وید کے اِس عجیب و غریب فلسفہ سے ہمیں اطلاع دے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ اعتراض اسلام کے عقیدہ پر نہیں ہوسکتا کیونکہ اسلام کے عقیدہ کے رُو سے پہلے آدمی اور پچھلے آدمی زمین پر کبھی جمع نہیں کئے گئے مگر وید کی رُو سے تو تمام پہلی پچھلی روحیں مکتی خانہ سے باہر نکالی جاتی ہیں اور پھر وہ تمام رُوحیں زمین پر طرح طرح کے حیوانوں کی شکل میں آجاتی ہیں۔ اب جب وہ تمام جاندار جو وقتاً فوقتاً زمین پر سے کوچ کر گئے تھے ایک ہی وقت میں زمین پر جمع ہوتے ہیں تو کوئی ہمیں سمجھائے کہ کیونکر اس زمین پر ان کی گنجائش ہوسکتی ہے* اور پھر تمام مکتی پانے والوں کا ایک ہی وقت میں مکتی خانہ سے باہر نکالنا ایک عجیب بات ہے جو سمجھ نہیں آتی کیونکہ جب مکتی پانے والے مختلف زمانوں میں زمین سے انتقال کرکے مکتی خانہ میں داخل کئے جاتے ہیں تو چونکہ مکتی کا زمانہ محدود ہے اس لئے یہ اعتراض لازم آتا ہے کہ ان مختلف زمانوں کے لوگوں کو ایک ہی دفعہ مکتی خانہ سے باہر نکالنا بے انصافی ہوگی۔ بلکہ یہ لازم آتا ہے کہ جیل کے قیدیوں کی طرح جس مکتی یافتہ کی میعاد پوری ہو جائے اور وہ اِس لائق ٹھہرے کہ مکتی خانہ سے باہر نکال دیا جاوے اُس کو فی الفور نکال دیا جاوے اور وہ دوسرا جس کی ابھی میعاد پوری نہیں ہوئی اس کو میعاد کے پورے ہونے تک مکتی خانہ میں رکھا جائے۔ غرض
*حاشیہ۔ اسلام میں جو حشر اجساد کی نسبت خبر دی گئی ہے یعنی یہ کہ قبروں میں سے مُردے جی اٹھیں گے ساتھ ہی یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ اُس دن زمین اس قدر پھیلائی جائے گی کہ جو کروڑ ہا درجہ اس زمین سے بڑھ کر ہوگی۔ منہ