اور ؔ پھر جس وید نے یہ خیال اپنا ظاہر کیاکہ سطح زمین کے تمام حیوانات اور آسمان کی فضا اور زمین کے اندر کے جانور اور تمام برّی بحری پر ند چرند خزنداور پانی کے کیڑے جو سمندر اور دریاؤں کے ہر ایک قطرہ میں ہزارہا ہیں یہ سب آدمی ہیں اس وید کو حق اور حکمت سے کیا تعلق ہے کیونکہ اگر یہ فرض کیا جائے کہ ان جانوروں کا کروڑم حصہ بھی کسی وقت آدمی بن کر اس زمین پر آباد ہوگا تب بھی ایسا فرض کرنا سراسر محال اور بالکل محال ہے بلکہ اگر زمین پر سے تمام سمندر اور تمام دریا اُٹھ جائیں اور تمام پہاڑ زمین سے ہموار ہو جاویں اور تمام زمین ایک صاف میدان آبادی کے لائق ہو جاوے تب بھی اگرکروڑم حصہ زمین کے جانداروں اور کیڑوں مکوڑوں کا انسان بن جائے اور ان کو زمین پر آباد کرنا چاہیں اور زمین بھی اندازہ موجودہ سے د۱۰ہ چند سے زیادہ ہو جائے پھر بھی اُن جانداروں کی بصورت آدمی بن جانے کے زمین پر گنجائش نہیں ہوسکتی۔ ہر ایک شخص جو ایک گروہ مہمانوں کا کسی گھر میں بلانا چاہتا ہے تو اوّل وہ دیکھ لیتا ہے کہ وہ گھر اُن کے لئے گنجائش بھی رکھتا ہے یا نہیں۔ پس اگر پرمیشر کا فی الحقیقت یہ ارادہ تھا کہ ان تمام جانداروں کو انسان بناکر زمین پر آباد کرے تو اس ارادہ کے مطابق زمین کو اس قدر فراخ بنانا چاہیئے تھا جس میں ان تمام انسانوں کی گنجائش ہوسکتی جو کیڑوں مکوڑوں کی جونوں سے انسان کے جون میں آنے والے تھے اور صاف ظاہر ہے کہ پرمیشر کااس قدر چھوٹی زمین بنانا کہ جس میں ایک کوئیں کے کیڑے بھی اگر آدمی بنائے جائیں سما نہیں سکتے۔ اُس کا یہ فعل اس کے اِس ارادہ پر دلالت کر رہا ہے کہ اُس کا منشاء ہی نہیں کہ یہ تمام کیڑے مکوڑے آدمی بن جائیں۔ ہاں اگر یہ کہو کہ پرمیشر سے یہ غلطی ہوئی کہ وہ صحیح اندازہ زمین اور تمام جانداروں کا نہیں کرسکا تو ایسے جواب سے نہ وید نہ وید کا پرمیشر اور نہ وید کا مذہب قائم رہ سکتا ہے۔ ایک اور وید ودّیا کا نمونہ ہم پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے زمین کی آبادی صرف ایک رُبع مسکون ہے جو نہایت قلیل