دےؔ کر پھر بے گناہ ذلیل کرنا اور رحم اور کرم سے معاملہ نہ کرنا کیا اس شخص کی عادت ہوسکتی ہے جس کی طبیعت غضب اور حسد اور کینہ اور بُغض سے خالی ہے جب کہ مکتی پانے والے لوگ اپنے زور بازو سے مکتی حاصل کرتے ہیں نہ پرمیشر کی کسی مروّت اور احسان سے تو کیا روا تھا کہ ان کو مکتی خانہ سے باہر نکالا جاوے اور کون کہتا ہے کہ اُن کے محدود اعمال ہیں بلکہ موت تو ایک عارضہ تھا کہ پرمیشر کی طرف سے ان کو لاحق ہوگیا ورنہ ان کا ارادہ غیر محدود اعمال کا تھا۔ پس چاہیے تھا کہ پرمیشر اُن کی نیت کے موافق ان کے ساتھ عمل کرتا نہ کہ وہ وجہ پیش کرتا جوکہ خود اس کے اپنے فعل سے پیدا ہوئی ہے نہ اُن کی نیت اور اختیار سے۔ افسوس وید نے ایک ایسا حلیہ پرمیشر کا دکھلایا ہے کہ گویا ہر ایک عیب اور غضب اور کینہ وری اور بے رحمی میں اس کی کوئی نظیر نہیں نہ قدرت کامل نہ رحم نہ اخلاق نہ اپنے وجود کا پتہ دے سکا کہ میں موجود ہوں کیونکہ اس کے وجود کا پتہ یا تواس کی خالقیت سے ملتا تا مصنوع کو دیکھ کر صانع کو شناخت کیا جاتا مگر بموجب تعلیم وید کے وہ ارواح اور ذرات عالم کا پیدا کنندہ نہیں اور یا اُس کے وجود کا پتہ اس کے تازہ نشانوں اور معجزات سے ملتا سو وہ نشانوں کے دکھلانے پر قادر نہیں۔ پس درحقیقت آریوں کا ایسے پرمیشر پر احسان ہے کہ باوجود یکہ اُس نے کوئی ثبوت اپنی ہستی کا نہیں دیا پھر بھی اُس کو مانتے ہیں۔ ہم آریہ صاحبوں کو اس بات کی طرف نہایت تاکید سے توجہ دلاتے ہیں کہ وہ صرف بیہودہ گو پنڈتوں کی باتوں پر اعتماد کرکے کسی ودّیا کو وید کی طرف منسوب نہ کریں موجودہ وید میں کوئی ودّیا نہیں نہ دین کی نہ دُنیا کی۔ جس وید نے خدا کے وجود پر ہی کوئی دلیل قائم نہیں کی اور پہلا قدم ہی اُس کاغلط نکلا اس کے دوسرے علوم و فنون تلاش کرنا صرف وقت ضائع کرنا ہے کیونکہ بموجب تعلیم وید کے پرمیشر روحوں اور ان کی طاقتوں کا پیدا کرنے والا نہیں اور ایسا ہی ذرات اور اُن کی طاقتوں کا پیدا کرنے والا نہیں تو پھر کیونکر شناخت کیا جائے کہ پرمیشرموجود بھی ہے اور یہ کہنا کہ پرمیشر روحوں اور جسموں کو باہم ملاتا ہے یہ قول کوئی دلیل نہیں جو روحیں اور ذرات خود بخود ہیں وہ خود بخود مل بھی سکتے ہیں۔