جو اؔ پنے گنہ کی وجہ سے کسی خاص جون کو چاہتا ہے وہی جون پرمیشر اُس کو دے دیتا ہے۔ پس اس صورت میں لازم آتا ہے کہ سطح زمین پر جس قدر پرند چرند درند خزند اور کیڑے مکوڑے ہیں اُسی قدر انسان کے گناہ بھی ہوں مگر وید نے کوئی اس قدر لمبی چوڑی فہرست گناہوں کی پیش نہیں کی اور عقل سلیم تو خود اس خیال کو سراسر لغو اور بیہودہ اورخلاف واقعہ سمجھتی ہے۔ پس یہ وید ودیا کے نمونے ہیں جو ہم ظاہر کرتے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس کی جگہ یہ ہے کہ پرمیشر باوجود مالک کہلانے کے کسی کا گناہ بخش نہیں سکتا اپنے زور بازو سے کوئی نجات پاوے تو پاوے ورنہ آریوں کو پرمیشر کے فضل اور رحم سے ہاتھ دھو لینا چاہیئے۔ ہم پرمیشر کی اس خصلت سے جس قدر تعجب میں ہیں کسی دوسری خصلت سے ہمیں تعجب نہیں یعنی جب کہ وہ جانتا ہے کہ انسانی فطرت کمزور ہے اور انسانی فطرت اُسی کی ایک کل بنائی ہوئی ہے اور اس کل کے تمام پرزے پرچے اُسی کی طرف سے ہیں تو اس قدر سخت دلی اُس کے تقدس کے برخلاف کیوں ہے۔ اگر وہ ایسا کمزور تھا کہ نہ تو گناہ بخش سکے نہ رُوحوں کو پیدا کرسکے نہ جاودانی مکتی دے سکے تو کیوں اس نے یہ نازک کام خدائی کا اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ کیا ایسا پرمیشر جو نیک اخلاق سے کچھ بھی حصہ نہیں رکھتا اور بات بات میں اس کا غضب اور کینہ ظاہر ہے برداشت تو ذرہ نہیں پھر کیونکر اُس کو کینہ اور غضب سے مبرّا سمجھ سکتے ہیں کیا غضب کرنے والوں اورکینہ وروں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں اور اگر وہ توبہ کرنیوالوں اور عجز و نیاز سے اس کی راہ میں گداز ہونیوالوں اور آتش محبت میں بھسم ہونے والوں کے گنہ بخش نہیں سکتا اورخواہ انسان تضرّع کرتا کرتا موت تک پہنچ جائے اس کا دل نرم ہی نہیں ہوتا اور بدلہ لینے سے باز نہیں آتا تو اگر اُس کو غضب کرنیوالا اورکینہ ور نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے اور اگر وہ دائمی مکتی باوجود قدرت کے اُن بندوں کو نہیں دے سکتا جن کا ایمان چند روزہ نہ تھا بلکہ ہمیشہ کے لئے تھا تو کیا اس کے حق میں یہ کہنا بے جا ہوگا کہ وہ حاسدوں کی طرح اپنے صادق پرستاروں کا آرام نہیں چاہتا کیا بار بار پاس کرکے پھر فیل کرنا اور عزت