ہوتاؔ ہے اور جب کہ یہ بات ہے کہ کہیں کا پرمیشر اورکہیں کی رُوحیں نہ تعلق نہ واسطہ نہ جوڑنہ رشتہ نہ اُس کے پیدا کردہ بندے۔ تا بباعث اس تعلق کے محبت اور رحم جوش مارے اور یاد آوے کہ آخر یہ بیچارے میرے پیدا کردہ ہیں تو پھر پرمیشر اُن پر کیوں رحم کرے وہ لگتے کیا ہیں۔
خیال کرنا چاہیئے کہ اس سختی اور غضب کی بھی کوئی حد ہے کہ بموجب اصول آریہ سماج کے اس دُنیا کو کروڑہا برس گذر گئے مگر اب تک پرمیشر نے حیوانات اور کیڑوں کو انسان بنانے میں کوئی قابل قدر کارروائی نہیں کی۔ تمام سطح زمین کا حیوانات اور کیڑوں مکوڑوں سے بھرا ہوا ہے اور پھر جب دیکھو کہ اُن کے مقابل پرانسان کتنے ہیں تو اتنے بھی معلوم نہیں ہوتے کہ جیسے سمندر میں سے ایک قطرہ بلکہ دیکھا جاتا ہے کہ انسانوں کی توالد تناسل بھی بہت ہی کم ہے اس کے مقابل پر ایک رات میں اس قدر نئے کیڑے پیدا ہوسکتے ہیں کہ ایک لاکھ برس میں اس قدر انسان پیدا نہیں ہوسکتے۔ نہ معلوم پرمیشر کو کہاں کا انسان سے یہ بغض ہے کہ اُس کے بارے میں نہایت سخت قواعد رکھے ہیں اور انجام کار جو مکتی دی جاتی
ہے وہ بھی دراصل ماتم کی جگہ ہے۔ خیر یہ تو پرمیشر کا حکم معلوم ہی ہوچکا ہے مگر ایک اور بے انصافی یہ ہے کہ پرمیشر سب کو ایک ہی مقررہ مدت گذرنے کے بعد مکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے لیکن جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں باہر نکالنے کے وقت بھی نا انصافی سے کام لیتا ہے اور باوجود اختلاف اعمال کے جو اختلاف زمانہ اجر کا موجب ہونا چاہیئے تھا سب کو ایک ہی دفعہ ایک ہی وقت میں مکتی خانہ سے باہر دفع کرتا ہے اور پھر بے انصافی یہ کہ گناہ تو صرف اسی قدر ہیں جو وید میں لکھے گئے ہیں مگر ان معدود اور محدود گناہوں کے عوض میں جو وید کے ایک ورق پر آسکتے ہیں تمام سطح زمین کا کروڑہا جانوروں اور بے شمار کیڑوں مکوڑوں سے بھر رکھا ہے اور وید کی تعلیم تناسخ یعنی جونوں کے متعلق یہ ہے کہ ہر ایک گناہ ایک خاص جون کو چاہتا ہے۔ کیونکہ پرمیشر تو گناہوں کی سزا میں اپنے ارادہ کا کچھ دخل ہی نہیں دیتا اور ہر ایک گنہگار