دؔ کرے کہ پھرایسا گناہ نہیں کرے گا مگر پھر بھی کیا ممکن کہ وہ گناہ جو خفیف سے خفیف ہے پرمیشر چھوڑ دے اور چشم پوشی فرماوے اور اگر کروڑوں اورکئی ارب کے بعد مکتی بھی دے گا تو وہ بھی ایک زمانہ محدود تک ہوگی اور پھر بعد اس کے جونوں کے عذاب میں ڈال دے گا اور نہیں چاہے گاکہ اس کے بندے ہمیشہ کاآرام پاویں۔ شاید اس کا یہ سبب ہے کہ روحوں اور پرمیشر میں خالق اور مخلوق کا تعلق نہیں۔ پرمیشر قدیم سے الگ اور روحیں قدیم سے الگ ہیں لہٰذا پرمیشر صرف ایک مجسٹریٹ کی حیثیت سے اُن سے معاملہ کرتا ہے نہ ماں باپ کی طرح اور یہ سچ ہے کہ رحم تعلق سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ ایک ماں بوجہ اس تعلق کے جو اپنے بیٹے سے رکھتی ہے اورجانتی ہے کہ وہ بیٹا اس کے پیٹ سے نکلا ہے اور اس کی چھاتیوں کا دودھ پیا ہے اُس کے لئے ایک رحمت کا دریا ہوتی ہے پس جب کہ رُوحوں اور پرمیشر میں خالق اور مخلوق کا تعلق ہی نہیں اور اس کے ہاتھ سے رُوح پیدا ہی نہیں ہوئی تو اس کی بلا سے اگر وہ ہمیشہ کے عذاب سے مریں تو بیشک مریں کونسا درمیان تعلق ہے جس کی وجہ سے اُس کا رحم جوش مارے؟ مگر قرآن شریف میں جو خدا نے یہ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے بندو مجھ سے نو میدمت ہومیں رحیم و کریم اور ستارو غفار ہوں اور سب سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہوں اور اِس طرح کوئی بھی تم پر رحم نہیں کرے گا جو میں کرتا ہوں۔ اپنے باپوں سے زیادہ میرے ساتھ محبت کرو کہ درحقیقت میں محبت میں اُن سے زیادہ ہوں اگر تم میری طرف آؤ تو میں سارے گناہ بخش دُوں گا اور اگر تم توبہ کرو تومیں قبول کروں گا۔ اور اگر تم میری طرف آہستہ قدم سے بھی آؤ تو میں دوڑکر آؤں گا۔ جو شخص مجھے ڈھونڈے گا وہ مجھے پائے گا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے گا وہ میرے دروازہ کو کھلا پائے گا میں تو بہ کرنے والے کے گنہ بخشتا ہوں خواہ پہاڑوں سے زیادہ گنہ ہوں میرا رحم تم پر بہت زیادہ ہے اورغضب کم ہے کیونکہ تم میری مخلوق ہو میں نے تمہیں پیدا کیا اِس لئے میرا رحم تم سب پر محیط ہے۔
یہ ہے خلاصہ قرآن شریف کی تعلیم کا۔اور یاد رہے کہ درحقیقت رحم تعلق سے ہی پیدا