پس جبکہ وید اُن کو پرمیشر کے یہی اخلاق سکھاتا ہے کہ ہرگز ہرگز کسی کا گناہ معاف نہیںؔ کرنا چاہیئے اور کرم اور جود اور احسان کسی کی نسبت ہرگز نہیں کرنا چاہیئے تو اس صورت میں آریہ صاحبوں کا یہ فرض ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اپنے دِلوں کو سخت رکھیں اور درگذر اور معافی کانام نہ لیں اور جود و احسان کو حرام سمجھیں لیکن ایک سچے مسلمان کے اخلاق اس کے برخلاف ہوں گے۔ اور وہ چونکہ قرآن شریف میں پڑھتا ہے کہ خدا تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے۔ گناہوں کو معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ اس معافی کے لئے وہ اس بات کامحتاج نہیں کہ کوئی ناکردہ گناہ سولی پر کھینچا جائے تا وہ گناہ معاف کرے بلکہ وہ صرف توبہ اور تضرّع اور استغفار سے گناہ معاف کردیتا ہے اس لئے ایک صادق مسلمان بھی اپنے قصورواروں کے قصور اسی طرح معاف کرتا ہے اور اس معافی کے لئے کسی کوسولی پر چڑھا نے کی شرط پیش نہیں کرتا۔ بلکہ ایک قصوروار کی توبہ اور رجوع کی حالت میں وہ تمام قصور بخش دیتا ہے کیونکہ اُس کا خدا بھی اسی طرح قصوروں کو بخشتا ہے اور وہ تمام لوگوں سے مروّت اور احسان سے پیش آتا ہے کیونکہ اُس کا خدا بھی جوّاد اور کریم اور رحیم ہے۔ لیکن جن لوگوں کا پرمیشر بجز غضب اور بخل اور بغض کے گنہگاروں کے ساتھ اور کوئی معاملہ نہیں کرسکتا اُن پر ہم کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ اخلاق فاضلہ اختیار کریں گے جو ان کے پرمیشر میں موجود نہیں ہیں۔ ہرایک مسلمان کو چاہیئے کہ ان کی دوستی سے پرہیز کرے ایسا نہ ہو کہ وہ دوستی کے ایام میں اپنے پرمیشر والے اخلاق ظاہر کردیں کیونکہ بموجب وید کے جس کو آریہ صاحبان پیش کرتے ہیں پرمیشر کے یہ اخلاق ہیں کہ کسی کے ایک ذرہ گناہ پر بھی سخت مؤاخذہ کرتا ہے اور بے شمار برسوں تک پلید اور گندی جونوں میں ڈالتا رہتا ہے اور پھر اگر ایک گنہگار دِلی درد اور پشیمانی سے اُس کے آگے رو وے چلّاوے نہایت عاجزی سے ناک رگڑے اور نہایت درجہ رنج اور غم کے ساتھ اپنے پر ایک موت وارد کرلے اور آئندہ کے لئے سچے دل سے