تمام لوگ جو مکتی خانہ سے باہر نکالے جاتے ہیں گناہ تو سب کا برابر ہوتا ہے کم و بیش نہیں ہوتا یعنی صرف ایک ذرہ۔ مگر جونیں برابر درجہ کی نہیں ہوتیں اُسی گناہ سے مرد بنایا جاتاؔ ہے اور اُسی سے عورت اور اُسی سے بندر اور اُسی گناہ سے نجاست کا کیڑا۔ کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ وید کی یہ فلاسفی کس قسم کی ہے۔ کیا اب بھی پرمیشر کا نام نیا کار اور منصف رکھوگے پھر یہ بھی ظاہرہے کہ جونوں کی مختلف صورتیں چاہتی ہیں کہ گناہ بھی مختلف صورتوں کے ہوں پس اس سے لازم آتا ہے کہ جس قدر دُنیا میں جاندار کیڑے مکوڑے پائے جاتے ہیں اُسی قدر گناہ بھی ہوں اور اس بات کے بیان کرنے کی حاجت نہیں کہ تمام سطح زمین اور فضا اور سمندر مختلف جانداروں اور کیڑوں مکوڑوں سے بھرا ہوا ہے۔ پس اگر یہ سچ ہے کہ اسی قدر گناہ بھی ہیں جن کی وجہ سے یہ مختلف حالتوں کے جاندار زمین پر نظر آتے ہیں تو آریہ صاحبوں کایہ فرض ہے کہ وید میں سے نکال کر اُن گناہوں کی ایک فہرست ہمیں دیویں تا ہم مقابلہ کرکے دیکھ لیں کہ جس قدر زمین پر اور سمندر میں اور آسمان کی فضا میں اور زمین کے اندر جانور کیڑے مکوڑے پائے جاتے ہیں کیا اسی کے موافق ٹھیک ٹھیک تعداد گناہوں کی وید میں لکھی گئی ہے۔ کیونکہ اگر یہ فہرست گناہوں کی اُن تمام جانوروں کی تعداد کے برابر نہیں ہوگی تو اس صورت میں ہمیں تناسخ اور نیز وید کے باطل ٹھہرانے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں ہوگی سو یہ بارِ ثبوت آریہ صاحبوں پر ہے کہ گناہوں کی فہرست اسی انداز اور تعداد کی پیش کریں جس قدر مختلف جانور زمین میں پائے جاتے ہیں۔ اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ جب کہ آریہ صاحبوں کا پرمیشر ایسا سخت دل ہے کہ عفو اور درگذر اوررحم اور کرم کی اس میں عادت ہی نہیں اور نیز اُس کی مکتی میں بھی ایک مخفی دغا ہے تو بلاشبہ یہی اخلاق آریہ صاحبوں کے ہوں گے اور ہونے چاہئیں کیونکہ یہ سخت بدذاتی ہے کہ انسان وہ اخلاق اختیار کرے جو اُس کے خدا کے اخلاق کے برخلاف ہیں اور ظاہر ہے کہ انسان کا کمال یہی ہے کہ صفت تخلّق باخلاق اللہ سے متّصف ہو