اور پھر ہم جب اس پہلو کو دیکھتے ہیں کہ کیوں اور کس وجہ سے ایک مدت کے بعد تمام لوگ مکتی خانہ سے نکالے جاتے ہیں تو ہمیں اور بھی وید کی تعلیم پر افسوس آتا ہے کہ وہ کسؔ قدر خلاف حق خدائے کریم کی ذات پر بخل اور بغض اور نادانی کی تہمت لگارہی ہے ۔ یعنی یہ عذر بیان کیا جاتا ہے کہ پرمیشر جو مکتی دے کرپھر مکتی خانہ سے باہر نکالتا ہے تو وہ اس اخراج کے لئے پہلے سے مکتی یابوں کا ایک ذرہ سا گناہ باقی رکھ لیتا ہے اور آخر اُسی گناہ پر دوبارہ مواخذہ کرکے سب کو مکتی خانہ سے باہر نکال دیتا ہے۔ اب خود سوچ لو کہ کیا یہ نہایت بداور قابل نفرت مکر خداوند کریم کی طرف منسوب کرسکتے ہیں۔ کیا اس کے اختیار میں نہ تھا کہ جہاں اور گناہوں کے دور کرنے کے لئے ایک مدت تک جونوں میں رکھا تھا اس تھوڑے سے گناہ کے لئے بھی چند روز آواگون کے چکر میں رکھتا اور پھر دائمی مکتی دیتا اور پھر اس جگہ منصفین کے لئے یہ بات بھی سوچنے کے لائق ہے کہ گناہ تو صرف ایک ذرہ تھا پھر اس کی سزا میں انسانوں کو بڑے بڑے گناہوں کی سزا کے موافق کتّے بِلّیاں بنانا اور مختلف طور کی جونوں میں ڈالنا یہ کس قسم کا انصاف ہے اور پھر یہ بھی سوچو کہ وہ گناہ جو صرف ایک ذرہ کے مقدار تھا اس کی سزا میں بعض کے لئے بڑی سزائیں اور بعض کے لئے چھوٹی سزائیں کیونکر تجویز کی گئیں یعنی اُسی ایک ذرہ گناہ کی وجہ سے ایک گروہ کو تو مکتی خانہ سے نکال کر انسان کی جون میں ڈالا گیا
مگر پھر بھی بعض کو مرد اور بعض کو عورت بنایا اور پھر اُسی ایک ذرہ گناہ کی وجہ سے دوسرے گروہ کو کتّے اور تیسرے کو سؤر اور چوتھے کو بندر بنایا گیا۔ حالانکہ گناہ صرف ایک ذرہ تھا۔ اوّل تو ایک ذرہ گناہ چیز ہی کیا تھا کہ اس کی وجہ سے انسان کو کسی جون میں ڈالا جاتا کیونکہ
اگر پرمیشر کی نظر میں وہ گناہ قابلِ بیزاری ہوتا تو باوجود ایسے گناہ کے کیوں پرمیشر لوگوں کو مکتی خانہ میں داخل کرتا۔ کیا وہ گناہ بھی کچھ وزن رکھتا ہے جو مکتی دینے کے وقت نظر انداز کیا گیا تھا۔ او راگر ایسی بے رحمی ہی منظور تھی تو صرف ایک ذرہ گناہ سے ایک ہی جون میں ڈالنا چاہیئے تھا تا کسی کی رعایت نہ ہو۔ مگر اس میں تو صریح پکش پات اور طرف داری ہے کہ