تمام حقوق خدا تعالیٰ کے اس سے اداہو جاویں اور کسی پہلو سے ایک ذرّہ قصور باقی نہ رہے اور اطاعت کی راہ میں ایک ذرّہ بھی لغزش اِس سے صادر نہ ہو تو یہ طریق نجات تعلیق بالمحال ہے نہ اس درجہ کی عہدہ برآئی کسی کو حاصل ہوگی اورنہ وہ نجات پائے گا۔ پس ایسا حکم ؔ خدا کا حکم نہیں ہو سکتا جو محال سے وابستہ اور صریح قانون قدرت کے برخلاف اور صحیفہء فطرت کے منافی ہے بھلا تم تمام مشرق و مغرب میں تلاش کرکے کوئی آدمی پیش تو کرو جو صغائر وکبائر اور کسی قسم کی غفلت سے بکلی پاک اور مبرّا ہو اور جس نے تمام حقوق بندہ پروری ادا کر دئیے ہیں اور جس کا یہ دعویٰ ہو کہ وہ تمام دقائق فرمانبرداری اور شکر گذاری کے بجا لاچکا ہے اور جب اس زمانہ میں کوئی موجود نہیں تو یقیناًسمجھو کہ ایسا آدمی کبھی دُنیا میں ظہور پذیر نہیں ہوا اور نہ آئندہ اُس کے پیدا ہونے کی اُمید ہے اور جب کہ اپنے زور بازو سے تمام حقوق خدا تعالیٰ کے ادا کرنا اور ہر ایک نہج سے شکر گذاری کے طریقوں میں عہدہ برآ ہونا قانون قدرت اور صحیفۂ فطرت کی رُو سے غیر ممکن ہے اور خود تجربہ ہر ایک انسان کا اس پر گواہ ہے تو پھر مکتی کی بنا ایسے امر پر رکھنا کہ خود وہ محال اور ناشدنی ہے کسی ایسی کتاب کے شان کے مناسب نہیں ہے جوخدا تعالیٰ کی طرف سے ہو مگر ممکن ہے کہ جیسا کہ اور کئی باتوں میں وید میں خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں یہ خرابی بھی کسی زمانہ میں پیدا ہوگئی ہو اور ممکن ہے کہ دراصل یہ وید کی تعلیم نہ ہو بلکہ محرف مبدّل ہو۔ اور پھر باوجود متذکرہ بالاخرابی کے جو قانون قدرت اور صحیفۂ فطرت کے مخالف آریوں کے مندرجہ بالا اصول میں پائی جاتی ہے۔ جب مکتی کی طرف دیکھا جائے تووہ بھی اپنے اندر ایک نفرتی طریق مخفی رکھتی ہے جو خدائے کریم کے شان کے شایان نہیں اور وہ یہ کہ مکتی پانے والے انجام کار مکتی خانہ سے باہر نکالے جاتے ہیں پس کس طرح قبول کیا جائے کہ یہ طریق اُس خدا کا مقرر کردہ ہے جو سرچشمہ تمام رحمتوں کا ہے اور بخیل اور حاسد نہیں ہے خدا کی شان اس سے بلند تر ہے کہ وہ اپنے سچے پرستاروں کو ایک مرتبہ اپنی قرب اور محبت کی عزت دے کر پھر کتّے بلّے بناوے اور کیڑوں مکوڑوں کی جونوں میں ڈالے۔