کہؔ انسان ضعیف البنیان بوجہ اپنی فطرتی کمزویوں کے گناہ سے محفوظ نہیں رہ سکتا اور قدم قدم پر ٹھوکر کھانا اس کی فطرت کا خاصہ ہے مگر وید نے انسان کی حالت پر رحم کرکے کوئی نجات کا طریق پیش نہیں کیابلکہ وید کو صرف ایک ہی نسخہ یاد ہے جو سراسر غضب اور کینہ سے بھرا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ایک ذرہ سے گنہ کے لئے بھی ایک لمبا اور ناپیدا کنار سلسلہ جو نوں کا تیار کر رکھا ہے* حالانکہ گنہگار اس وجہ سے بھی قابل رحم ہے کہ اس کی کمزور قوتیں جن سے گناہ صادر ہوتا ہے اس کی طرف سے نہیں بلکہ اُسی خدا نے پیدا کی ہیں۔ پس اِس حالت میں عاجز بندے اِس بات کے مستحق تھے کہ اس مجبوری کا بھی ان کو فائدہ دیا جاتا۔ مگر بقول آریہ صاحبان پرمیشر نے ایسا نہیں کیا اور سزا دینے کے وقت یہ امر ملحوظ نہیں رکھا کہ آخر گناہ کے ارتکاب میں اس کا بھی تو کچھ دخل ہے اور وید نے مکتی دینے کے بارہ میں یہ شرط رکھی ہے کہ تب مکتی ملے گی کہ جب انسان گناہ سے بالکل پاک ہوجاوے مگر اس شرط کو جب قانون قدرت کے معیار کے ساتھ آزمایا جاوے تو ثابت ہوگا کہ اس شرط سے عہدہ برآ ہونا بالکل انسان کے لئے غیر ممکن ہے کیونکہ جب تک انسان خدا تعالیٰ کے تمام حقوق ادانہ کرلے تب تک نہیں کہہ سکتا کہ اُس نے فرمانبرداری کے تمام دقائق کو ادا کردیا ہے اور ظاہر ہے کہ قانون قدرت صاف یہ شہادت دے رہا ہے اور انسان کا صحیفہ فطرت اس شہادت پر اپنے دستخط کر رہا ہے اور بزبانِ حال بیان کر رہا ہے کہ انسان کسی مرتبہ ترقی اور کمال میں اس قصور سے مبرّا نہیں ہوسکتا کہ وہ بمقابل خدا کی نعمتوں اور اس کے حقوق کے شکر نہیں کرسکا اور اس کے احکام کی کامل پیروی اور پوری بجا آوری میں بہت قاصر رہا۔ پس اگر انسان کی نجات صرف اِسی صورت میں ہے کہ جیسا کہ چاہیء * دنیا کے تفاوت مراتب اور دکھ سکھ کی حالت کو دیکھ کر اس کو اواگون یعنی تناسخ کی دلیل بتانا سراسر نادانی ہے کیونکہ جب دوسرا عالم آنے والا ہے تو دکھ پانے والے کو وہاں اس کے عوض میں سکھ مل جائے گا ۔ ایسے بھی تو لوگ ہیں کہ جَپ تَپ سے اپنے لئے آپ ہی دکھ پیدا کرتے ہیں تا دوسرے عالم میں سکھ اٹھاویں ۔ منہ