سزاؔ دینے کے پھر بھی انسان کو انسان ہی رکھتا ہے کسی اور جون میں نہیں ڈالتا۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن شریف کی رُو سے خدا تعالیٰ کی محبت اور رحمت اُس کے غضب سے بڑھ کر ہے اور وید کی رُو سے گنہ گاروں کی سزا نا پیدا کنار ہے اور پرمیشر میں غضب ہی غضب ہے رحمت کا نام و نشان نہیں مگر قرآن شریف سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ انجامکار دوزخیوں پر ایسا زمانہ آوے گا کہ خدا سب پر رحم فرمائے گا۔ لیکن وید کی رُو سے اگر پرمیشر کا ارادہ دیکھنا ہو تو ایک نظر اُن حیوانات پر ڈالو جو جنگلوں اور دریاؤں اور آسمان کی فضا اور آبادیوں میں موجود ہیں اور اُن کیڑوں پر نظر ڈالو جو ایک ایک قطرہ پانی میں جس سے سمندر اور دریا بھرے پڑے ہیں ہزارہا موجود ہیں توکیا اس سے سمجھا جاتا ہے کہ مکتی دینے میں پرمیشر کی نیت بخیر ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ اے آریہ صاحبان ! خوب یاد رکھو کہ پرمیشر ان تمام انسانوں کے جونوں کو انسان بنانے کا ہرگز ارادہ نہیں رکھتا اگر ارادہ رکھتا تو پرمیشر اُسی قدر زمین کو فراخ بناتا جس قدر تمام کیڑوں مکوڑوں کو انسان بنانے کی حالت میں فراخ بنانے کی حاجت پیش آنے والی تھی۔ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ دُنیا کے تمام مذاہب میں سے صرف وید ہی کا ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے پرمیشر کو پرغضب اور کینہ ور قرار دیتا ہے اور اس بات کا سخت مخالف ہے کہ خدا تعالیٰ تو بہ اور استغفار سے اپنے بندوں کا گناہ بخش دیتا ہے اور عجیب تر یہ کہ اس مذہب میں یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ پرمیشر تمام مخلوقات کامالک ہے اور تمام مخلوق جانداروں کی قسمت اس کے ہاتھ میں ہے اور وہی ایک ہے جس کے سامنے تمام گنہ گار پیش کئے جاتے ہیں۔ لیکن انسانوں کی بدقسمتی کی وجہ سے اس میں یہ صفت غضب توموجود ہے جو گناہ کو دیکھ کر اس کی سخت سے سخت سزا دیتا ہے لیکن اس میں یہ دُوسری صفت موجود نہیں کہ کسی گنہ گار کی توبہ اور تضرع سے اس کا گنہ بھی بخش سکتا ہے بلکہ جس سے ایک ذرہ بھی قصور ہوگیا۔ پھر نہ اُس کی توبہ قبول نہ تضرّع عاجزی قابلِ التفات۔ حالانکہ یہ بات ظاہر ہے