مت کرو جن کے تم خود پابند نہیں۔ معرفت کی ترقی میں لگے رہو۔ جہل سے دِل کو پاک کرو۔ جلدی سے کسی پر اعتراض مت کرو۔ نفرت کرنے سے نفرت رفع نہیں ہوتی بلکہ اور بھی بڑھتی ہے۔ محبت نفرت کو ٹھنڈا کرکے رفع کر دیتی ہے۔ 333۱؂ ۔ یعنی دلوں کی پاکیزگی سچی قربانی ہے۔ گوشت اورخون سچی قربانی نہیں۔جس جگہ عام لوگ جانوروں کی قرباؔ نی کرتے ہیں۔ خاص لوگ دلوں کو ذبح کرتے ہیں۔ مگر خدا نے یہ قربانیاں بھی بند نہیں کیں تا معلوم ہو کہ ان کی قربانیوں کا بھی انسان سے تعلق ہے۔ خدا نے بہشت کی خوبیاں اِس پیرایہ میں بیان کی ہیں جو عرب کے لوگوں کو چیزیں دل پسند تھیں وہی بیان کردی ہیں۔ تا اس طرح اُن کے دل اس طرف مائل ہو جائیں۔ اور دراصل وہ چیزیں اور ہیں یہی چیزیں نہیں۔ مگر ضرور تھا کہ ایسا بیان کیا جاتا۔ تاکہ دِل مائل کئے جائیں۔ 3۲؂ ۔ وہ جو ا پنی نفسانی خواہشات کے پورا کرنے میں لگا رہتا ہے۔ وہ سراسر اپنی بیخ کنی کرتا ہے لیکن وہ جو سچے راستہ پر چلتا ہے اُس کا نہ صرف بدن بلکہ رُوح بھی نجات کو پہنچے گی۔ وہ جو ا پنی نفسانی خواہشات کے پورا کرنے میں لگا رہتا ہے وہ سراسر اپنی بیخ کنی کرتا ہے اور نہ صرف جسم کو ہلاکت میں ڈالتا ہے بلکہ رُوح کو بھی ہلاک کرتا ہے۔ مگر وہ جو راہ راست پر چلتا ہے اور نفسانی جذبات کا پیرو نہیں ہوتا۔ وہ نہ صرف اپنے جسم کو ہلاکت سے بچاتا ہے بلکہ اپنی رُوح کو بھی نجات تک پہنچا دیتا ہے۔ 3 3۳؂ ۔ ایک گاؤں میں سو گھر تھے۔ اور صرف ایک گھر میں چراغ جلتا تھا۔ تب جب