لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ اپنے اپنے چراغ لے کر آئے۔ اور سب نے اُس چراغ سے اپنے چراغ روشن کئے۔ اسی طرح ایک روشنی سے کثرت ہوسکتی ہے۔ اسی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ کرکے فرماتا ہے۔ 3 3 ۱ ۔
انساؔ ن تو اپنی جان کا بھی مالک نہیں چہ جائیکہ وہ دولت کا مالک ہو۔ ایک چمچہ شربت کا مزہ نہیں پاسکتا۔ اگرچہ کئی بار اس میں پڑتا ہے۔ شیرینی ہاتھوں کے ذریعہ سے منہ تک پہنچتی ہے۔ لیکن ہاتھ شیرینی کا مزہ نہیں پاسکتے اِسی طرح جس کو خدا نے حواس نہیں دیئے وہ ذریعہ بن کر بھی کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتا۔3 3 ۲ 3۳ ۔
ایک بڑی لذّت چھوٹی لذّت سے غنی کر دیتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 3۴۔ 3۵ ۔
(۱) ایمان بیج ہے۔ (۲) نیک کام مینہ ہے (۳) مجاہدات ہل ہیں جو جسمانی اور ظاہری طور پر کئے جاتے ہیں۔ نفس مرتاض بیل ہے جو نفسِ لوّامہ ہے۔ شریعت اس کے چلانے کے لئے ڈنڈا ہے اور وہ اناج جو اس سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ دائمی زندگی ہے۔
ذات سے خارج وہ ہوتا ہے۔ جو نیک صفات سے خالی ہو۔ کیونکہ انسان کی نیک صفات ہی اُس کی ذات ہے۔ اپنے دل کے جذبات کو سمجھنے والے بہت کم ہوتے ہیں وہ جن چیزوں میں اپنی خوشحالی دیکھتے ہیں۔ درحقیقت وہ خوشحالی کا موجب نہیں ہوتیں۔
جو شخص بدی کے مقابل پر بدی نہیں کرتا اور معاف کرتا ہے وہ بلاشبہ تعریف کے لائق ہے۔ مگر اس سے زیادہ وہ شخص تعریف کے لائق ہے جو