(۲) کس ایسی سائنس کے عقدہ کو نبیوں نے حل کیا جو پہلے لاینحل تھا۔
(۳) نبیوں نے رُوح کی کیفیت و ماہیت کچھ نہیں بتلائی۔ اورنہ آئندہ زندگی کا کچھ حال بتلایا۔ نہ خدا کا ہی مفصل حال بیان کرسکے۔ لیکن انبیاء نے بیان کیا ہے کہ نیند کے اور اسباب تھے۔ فن طبعی میں نیند کو اسباب طبعیہ میں رکھا ہے۔
(۴) سابقہ مغالطوں کو رفع نہیں کیا اور نہ پیچیدہ مسائل کو سلجھایا۔ بلکہ اور بھی اُلجھن میں ڈال دیا۔
(۵) بُدھ کی اخلاقی تعلیم سب سے اعلیٰ ہے۔
(۶) جس چیز سے انسان پیار کرتا ہے اس سے اگر جدا کیا جائے تو یہی اس کے لئے ایک عذاب ہو جاتا ہے۔
(۷) اور جس چیز سے اگر پیار کرے۔ اگر وہ میسر آجائے تو یہی اُس کی راحت کا موجب ہو جاتا ہےؔ ۔ 3۱
(۸) خواہش کا نابود کرنا ذریعہ نجات ہے۔
(۹) دنیا میں کبھی علم صحیح سے نجات ملتی ہے اور کبھی عمل صحیح سے نجات ملتی ہے اور کبھی قول صحیح سے نجات ملتی ہے اور کبھی فعل صحیح سے نجات ملتی ہے۔ اور کبھی بنی نوع سے معاملہ پاک موجب نجات ہو جاتا ہے اور کبھی خدا سے معاملہ نیک درد و دکھ چھڑاتا ہے اور کبھی ایک درد دوسری دردوں کے لئے کفارہ ہو جاتی ہے۔
(۱۰) سچ کہو جھوٹ نہ بولو۔ بیہودہ باتوں سے پرہیز کرو۔ اور اپنے فعل یا اپنے قول سے کسی کو نقصان مت پہنچاؤ۔ اپنی زندگی کو پاک رکھو۔ غیبت نہ کرو۔ اور کسی پر بہتان مت لگاؤ۔ نفسانی شہوات اپنے پر غالب نہ ہونے دو۔ کینہ اور حسد سے پرہیز کرو۔ بغض سے اپنا دل صاف رکھو۔ اپنے دشمن سے بھی وہ معاملہ نہ کرو جو تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔ ایسی نصیحتیں دوسروں کو