انسانی محبت کی طرح جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ ۱؂ یعنی خدا کی ذات اور صفات کی مانند کوئی چیز نہیں۔ بھلا ہم پوچھتے ہیں کہ آریوں کے وید کی رُو سے اُن کا پرمیشرکیوں گنہ گاروں کو سزا دیتا ہے یہاں تک کہ انسانی جون سے بہتؔ نیچے پھینک کر کُتّا۔ سُؤر۔ بندر۔ بلا بنا دیتا ہے۔ آخر اُس میں ایک ایسی صفت ماننی پڑتی ہے کہ جو اس فعل کے لئے وہ محرک ہو جاتی ہے۔ اسی صفت کا نام قرآن شریف میں غضب ہے۔ چنانچہ رگوید بھی اس غضبی صفت سے جو پرمیشر میں پائی جاتی ہے بھرا پڑا ہے جیسا کہ رگوید میں مندرجہ ذیل شُرتیاں درج ہیں۔ (۱) اے اِندر اور اگنی بجّر گھمانے والو شہروں کے غارت کرنے والو ہمیں دولت عطا کرو۔ لڑائیوں سے ہماری مدد کرو۔ (۲) اے اِندر جو سب دیوتاؤں میں اوّل درجہ کا دیوتا ہے ہم تجھے بلاتے ہیں۔ تو نے لڑائیوں میں فتوحات حاصل کی ہیں۔ ایسا ہوا کہ اِندر کار ساز غضبناک جو تمام مانع چیزوں کا جڑھ سے اُُکھاڑنے والا ہے۔ ہمارے رتھ کو لڑائیوں میں سب سے آگے رکھے۔ (۳) تو اے اندر فتح کرتا ہے لیکن لوٹ کو نہیں روکتا۔ چھوٹی چھوٹی لڑائیوں میں اور بڑی سخت لڑائیوں میں ہم تجھے اے میگو اہن اپنی حفاظت کے لئے تیز کرتے ہیں۔ (۴) اے اجیت اندر ایسی لڑائیوں میں ہماری حفاظت کر جہاں سے بہت لوٹ ہمارے ہاتھ آوے۔ (۵) اے اگنی ہمارے دشمنوں کو جلادے۔ تو بہتوں کے فائدہ کے لئے پیدا کی گئی ہے * حاشیہ۔ ان تمام شُریتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم سے آریہ لوگ ان عناصر وغیرہ کو اپنے زعم میں پرمیشر سمجھتے تھے اور غضب وغیرہ تمام صفات خدا تعالیٰ کے ان کی طرف منسوب کرتے تھے پھر نہ معلوم کہ کیوں اور کس وجہ سے مضمون سنانے والے نے وید کی تعلیم کے مخالف جلسہ میں یہ مضمون سنایا